اسلام آباد(روزنامہ آواز ٹائمز)وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ عمران خان نیاپنے ورکرز کو ریاست پر حملے کی ترغیب دی، اس گھناؤنے جرم میں ملوث بعض لوگوں کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہو گا، فوجی عدالتوں میں ٹرائل کوئی نئی بات نہیں، ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے، شہدا کی یادگاروں کے ساتھ جو کچھ کیا گیا، اسے دہراتے ہوئے بھی شرم آتی ہے، جی ایچ کیو کے گیٹ پر پٹرول بم بنا کر حملہ کرنے والوں کا کوئی کیسے دفاع کر سکتا ہے، پارلیمنٹ کی حدود میں مداخلت کرنے والوں کو اس ایوان سے واضح پیغام جانا چاہیے۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے حوالے سے معاملہ کی سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہو رہی ہے، فوجی عدالتوں میں ٹرائل پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا، پچھلی حکومت کے دور میں 24 یا 25 لوگوں کو سزا بھی ہوئی۔ ماضی میں عدلیہ کی جانب سے اس کی توثیق بھی کی گئی۔ اس ایوان نے بار بار اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ادارے ایک دوسرے کی حدود سے تجاوز نہ کریں، اداروں کے درمیان تصادم ملک کے لئے نیک شگون نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں ٹرائل کوئی نئی بات نہیں ہے، مسئلہ جو لوگ عدالتوں میں لے کر گئے ان کے سیاسی مقاصد ہیں، ان کے اصل گلے شکوے اپنے جماعتوں کے ساتھ ہیں، ان کو اگر ان کی جماعت کی طرف سے توجہ حاصل نہیں ہو رہی اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں ہے۔ خواجہ محمد آصف نے کہا کہ بعض لوگوں کے جرم کا گھناؤنا پن بھی دیکھیں، بعض لوگوں کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ہو گا،عمران خان نے ریاست پر حملے کی اپنے لوگوں کو ترغیب دی، شہدا کی یادگار کے ساتھ جو کچھ ہوا اسے دہراتے ہوئے بھی شرم آتی ہے، میانوالی ایئر بیس پر اگر کوئی نقصان ہو جاتا تو کیا کہا جاتا، ان جہازوں کو تو ہندوستان نشانہ بنانے کا خواہشمند ہے۔






