اسلام آباد (روزنامہ آواز ٹائمز)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سویڈن حکومت مجرموں کے خلاف فی الفور کارروائی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات کرے، ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے حکومت، سیاستدانوں اور اداروں کو مل کر کام کرنا چاہئے، اشرافیہ بڑے صنعتکاروں سمیت ہم سب کو ایثار اور قربانی دینا ہو گی، اگر اس راہ کو اپنالیں گے تو ترقی اور خوشحالی ہمارے قدم چومے گی، آئی ایم ایف معاہدہ سے ہمیں سانس لینے کا موقع ملا ہے، دعا ہے کہ یہ ہمارا آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہو، ہمیں مستقبل کیلئے دیرپا فیصلے کرنا ہوں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر عید کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے ملک ترقی کرے گا، آپ کی محنت رنگ لائے گی، گذشتہ 15 ماہ سے متعدد چیلنجز سے نبرد آزما ہیں اور ملک کو درپیش ان چیلنجز سے نمٹنے کیلئے بھرپور کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے چند دن قبل آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کا معاہدہ بے پناہ کاوشوں کے باعث منطقی انجام تک پہنچا، اس کامیابی پر کابینہ کے تمام اراکین بالخصوص وزیر خزانہ، ان کی ٹیم اور متعلقہ وزارتوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ ان کی شبانہ روز محنت سے آئی ایم ایف کے ساتھ 9 ماہ کا سٹینڈ بائی معاہدہ ہوا انہوں نے نے کہا کہ ہم چین کی مدد کو کبھی نہیں بھول سکتے، ماضی میں بھی چین نے پاکستان کی بھرپور مدد کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدہ پر ایم ڈی آئی ایم ایف اور ان کی ٹیم کا میں اپنی کابینہ کی جانب سے تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں، انہوں نے کہا کہ حکومت، سیاستدانوں اور اداروں کو آئندہ 15 سے 20 سال اپنے اپنے دائرہ میں رہتے ہوئے مل کر کام کرنا چاہئے، اللہ تعالی کے فضل و کرم سے ترقی ہمارے قدم چومے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ لمحہ فخریہ نہیں بلکہ لمحہ فکریہ ہے، اس معاہدہ سے ہمیں سانس لینے کا موقع ملا ہے، وژن، اتحاد سے ہی دن رات محنت کریں، اشرافیہ بڑے صنعتکاروں سمیت ہم سب کو ایثار اور قربانی دینا ہو گی، اگر اس راہ کو اپنالیں گے تو ترقی اور خوشحالی ہمارے قدم چومے گی اللہ تعالی محنت کبھی رائیگاں نہیں جانے دیتا، پیرس میں ان کے ساتھ جانے والے وفد کے تمام اراکین کا شکرگزار ہوں، انہوں نے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر سے ملاقات کے دوران مذاکرات میں بات چیت میں اہم کردار ادا کیا ہے، دعا ہے کہ یہ ہمارا آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہو اور دوبارہ ہمیں آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ سالانہ 600 ارب روپے پاکستان سٹیل ملزاور پی آئی اے جیسے اداروں پر صرف کرنا پڑتے ہیں، اس صورت میں ہم کیسے ترقی کر سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمیں مستقبل کیلئے فیصلے کرنا ہوں گے






