اسلام آباد(آوازٹائمز)قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن کی نعرے بازی،کورم کی نشاندھی اور حکومت کورم پورا کرنے میں ناکام،اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیاگیا۔بدھ کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس پینل آف چیئرپرسن علی زاہد کی صدارت میں منعقد ہوا۔ وقفہ سوالات کے دوران اراکین کے درمیان سخت جملوں، اپوزیشن کی نعرے بازی اور بار بار کورم کی نشاندہی کے باعث ماحول کشیدہ رہا۔وقفہ سوالات کے دوران آغا رفیع اللہ نے حکومتی جواب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اراکین محنت سے سوالات تیار کرتے ہیں صرف گول مول جواب دیے جاتے ہیں اور ٹی اے ڈی اے بنایا جاتا ہے‘کتابوں میں جو لکھا ہوتا ہے، اس کا 10 فیصد بھی نہیں بتایا جاتا۔انہوں نے وفاقی وزیر سے مطالبہ کیا کہ ایف بی ای کے ٹال فری نمبر پر فوری کال کر کے ثابت کریں کہ نمبر جواب دیتا ہے۔وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے اس اعتراض کو سیاسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ رکن کے سوال کا تفصیلی جواب دیا گیا ہے، اور طنزیہ انداز میں کہالابی میں جا کر ٹال فری نمبر پر بھی کال کر لیتے ہیں۔ پینل آف چیئر علی زاہد نے دونوں اراکین کو ہدایت کی کہ لابی میں جا کر معاملہ حل کریں۔اجلاس کے دوران پی ٹی آئی اراکین ایک بار پھر بانی پی ٹی آئی کی تصاویر اٹھا کر ایوان میں داخل ہوئے اور ان کے حق میں زوردار نعرے بازی کی۔اپوزیشن کی طرف سے مسلسل شور شرابہ جاری رہا۔ اپوزیشن رکن اقبال آفریدی نے پہلی بار کورم کی نشاندہی کی، جس پر گنتی کے بعد ایوان میں کورم پورا نکلا اور کارروائی جاری رہی۔ اجلاس میں رکن قومی اسمبلی مسرت رفیق مہر کے سوال پر پارلیمانی سیکرٹری شذرہ منصب نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات مختلف شہروں میں دیکھے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے لیے ایک خصوصی پراجیکٹ پر کام ہو رہا ہے، جس کے تحت شہر کی ایئر کوالٹی کی بہتری اور مانیٹرنگ کو ممکن بنایا جائے گا۔اجلاس میں اقبال آفریدی نے دوبارہ کورم کی نشاندہی کی، جس پر گنتی کی گئی تو ایوان میں صرف 63 ارکان موجود تھے جبکہ کورم کے لیے 84 ارکان ضروری ہیں۔دوسری بار کورم ناکام ہونے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا






