لاہور (روزنامہ آواز ٹائمز) لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی 21 جون تک حفاظت ضمانت منظور کر لی جبکہ انکی اہلیہ،سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کو بھی 13جون تک کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا۔ گزشتہ روز سابق وزیر اعظم عمران خان توشہ خانہ فراڈ کے مقدمے میں حفاظتی ضمانت کے لئے ہائیکورٹ میں جسٹس امجد رفیق کی عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل سلمان صفدر نے بتایا کہ سابق وزیر اعظم کے خلاف اسلام کے تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا ہے، عمران خان کو فراڈ اور دھوکہ دہی کی دفعات کے تحت نامزد کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ توشہ خانہ کیس میں نیب اور ایف آئی اے نے کاروائی شروع کر رکھی ہے، اسلام آباد کی عدالت سے رجوع کرنے کے لیے حفاظتی ضمانت دی جائے۔
عمران خان نے گیارہ مقدمات میں اسلام آباد میں پیش ہونا ہے، عدالت ہمیں حفاظتی ضمانت زیادہ وقت کے لیے دے۔ وکیل کے قتل کے الزام میں بھی چیئرمین تحریک انصاف کے خلاف کوئٹہ میں مقدمہ درج ہو گیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے چیئرمین تحریک انصاف کی حفاظتی ضمانت 21 جون تک منظور کر لی۔علاوہ ازیں ہائیکورٹ میں جسٹس امجد رفیق نے سابق خاتون اول بشری بی بی کی جانب سے اپنے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہمی کی درخواست پر سماعت کی۔ بشری بی بی کے وکیل انتظار حسین پنجوتہ نے درخواست میں وفاقی حکومت،ایف آئی اے اور چاروں صوبوں کے آئی جیز کو فریق بناتے ہوئے موقف اپناا کہ آئین کے آرٹیکل دس اے کے تحت شفاف ٹرائل ہرشہری کا بنیادی حق ہے، اطلاعات ہیں کہ بشری بی بی کیخلاف مقدمات درج کرکے انہیں سیل کردیاگیاہے، شفاف ٹرائل کیلئے مقدمات کیاندراج کی معلومات اور ان تک رسائی ہرشہری کاقانونی حق ہے۔عدالت بشری بی بی کیخلاف درج تمام مقدمات کی تفصیلات عدالت میں ہیش کرنے کاحکم دے۔پنجاب پولیس، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن نے رپورٹس عدالت میں جمع کروا دیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل جاوید اعوان نے اسلام آباد پولیس کی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔سرکاری وکیل نے کہا کہ بشری بی بی کیخلاف نیب میں القادر ٹرسٹ کا کیس ہے، بشری بی بی کیخلاف اس کے علاوہ کوئی کیس نہیں ہے۔






