آج محکمہ تعلیم سندھ گورنمنٹ سیکٹر کی جانب سے اپنے حقوق جس میں (پینشن تنخواہوں میں اضافہ و دیگر) کے خلاف احتجاجی کال پر تقریباً تمام سرکاری اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر بند ہیں، چند اک سرکاری اسکولوں میں آج بھی تعلیمی سرگرمیاں براۓ نام جاری ہیں.
آج کی تحریر کا مقصد حکومتِ سندھ بالخصوص محکمہ تعلیم کے اعلیٰ عہدیداروں تک اس پیغام کی رسائی ممکن بنانا ہے جن اپنے بچے (LGS) جیسے مہنگے ترین اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہیں.
دوسری طرف انکی جانب سے کرپشن اس قدر بے تحاشہ ہے کہ 5 جماعت فیل کی ماہانہ تنخواہ بھی 2 لاکھ + ہے جبکہ ریٹائرمنٹ پر پنشن 1 لاکھ + اور بنگلہ گاڑیاں الگ
کسی ماسٹر کا تبادلہ اک شہر سے دوسرے شہر کروانا ہو اس کے لیےمبینہ طور پر 1 لاکھ تک یہ اس سے زائد کی ڈیمانڈ بطور خرچہ پانی کی جاتی ہے، یعنی دکان پکوڑوں کی باتیں کروڑوں کی آتا نام لکھنا بھی نہیں اور پیسہ کروڑوں میں پینشن سے پہلے وصول کر لیتے ہیں چھوٹے درجہ کے غریب و لاچار اساتذہ سے اک جگہ سے دوسری جگہ بدلی کے نام جبکہ کام فقط اک سنیچر کرنا ہوتا ہے.
اب بات کرتے ہیں ہمارے تعلیمی نظام کی
دیکھا جائے تو Village گاؤں کی اطراف میں موجود سرکاری اسکولوں میں اساتذہ اپنے فرائض سرانجام دینے سے اس قدر غافل ہیں کہ سالوں سال اسکول میں قدم نہیں رکھتے اور جب محکمہ تعلیم کی جانب سے TO یہ دیگر عہدیداروں کا وزٹ ہوتا ہے تو سب اس طرح کی تصویر پیش کرتے ہیں جیسے صبح سے پانی تک نہیں پیا.
زیادہ دور نہیں جاتے ہمارے اپنے ضلع ٹنڈو محمد خان میں ہی شاید ہی کسی اسکول کے ہیڈ ماسٹر کو Abbreviation یہ Anonymous کی وضاحت انکا کام پتا ہو باقی ایم پی ایز یاایم این ایز کے پیچھے سائیں سائیں کرنے میں ایسے نظر آئیں گے جیسے سائیں انکا روحانی پیشوا ہو.
خدا کو مانو ظلم ختم کرو اک تو پاکستان بالخصوص سندھ کا تعلیمی نظام پہلے ہی اس مقام پر پہنچ چکا ہے یہاں سرکاری اسکولوں سے زیادہ پرائیوٹ اسکولوں کا رش ہوچکا ہے ہر گلی ہر محلہ میں پرائیوٹ اسکول موجود ہیں اور پھر سندھ حکومت کی جانب سے تعلیمی زیان کی خاطر آئے دن کسی کی برسی تو کسی کے جنم دن کے موقع پر تعلیمی سرگرمیاں بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جاتا ہے
سال میں تقرباً دن 365 جبکہ اتوار 52,53 آجاتے ہیں اس میں کافی تعلیمی ادارے ہفتہ اتوار بند رہتے ہیں جبکہ دیگر چھٹیاں الگ جیسے گرمیوں کی چھٹیاں 2 ماہ 60 یہ 61 دن سردیوں کی چھٹیاں 15,20 دن عید کی چھٹیاں 6,10 دن ربیع الاول 27 رمضان المبارک 14 اگست بھٹ شاھ کا میلہ مزدوروں کا عالمی دن 10 دن بچہ بیماری کے باعث اسکول آنے سے قاصر 10,15 دن کبھی کسی ہڑتال کے باعث اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں بند تو کبھی برسات یہ ہیٹ اسٹروک کے باعث تعلیمی ادارے بند 9,10 محرم الحرام کی چھٹی 40 محرم الحرام کے موقع پر بھی تعلیمی سرگرمیاں بند 6 ستمبر یومِ دفاع کے موقع پر اسکول بند 5 فروری کشمیر ڈے کے موقع پر بھی تعلیم کا زیان تو کبھی اسکول پکنک کے باعث 2 سے 3 روز اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں متاثر کبھی اسکول کے سالانہ یہ ششماہی امتحانات پر 7 سے 10 دن تعلیمی سرگرمیاں متاثر یعنی سال کے 365 دنوں میں سے 166 یہ 170 دن تعلیمی اداروں میں کسی نہ کسی بہانے تعلیمی سرگرمیاں متاثر رہتی ہیں باقی بچے پیچھے 195 دن یعنی 6 ماہ تقریباً 15 دن
اب ان 195 6 ماہ 15 دنوں میں بچہ اسکول میں کیا پڑھے کیا سمجھے کبھی اسکول کا ماحول کیسا تو کبھی کیسا
بات کریں پرائیوٹ اسکول انتظامیہ کی تو یہ چھٹیاں کرنے میں یہ سب سے آگے ہوتے ہی ہیں ساتھ ہی والدین و بچوں کا خون چوسنے میں بھی انکو مزہ آتا ہے، کبھی اسکول پکنک کے بہانے والدین سے 5000 تک کی رقم نکل وائیں گے جس میں اسکول کے اساتذہ سمیت دیگر لوگ بلکل مفت ٹور انجوۓ کریں گے فرض کریں اک اسکول میں 500 بچے زیرِ تعلیم ہیں جن میں سے تقریباً 100 بچے بھی اگر اس پکنک میں شامل ہوتے ہیں تو فی بچہ 5000 کے حساب سے 100 بچوں کی رقم 500,000 پورے پانچ لاکھ بنتی ہے جس میں اگر بکنگ کی جاۓ تو 2 بسوں کی بکنگ آرام سے 80 ہزار تک ہوجاتی ہے کھانا پینا ریگفریشمنٹ و انٹری ٹکٹوں کو شامل کر کے فی بچہ تقریباً انکو 2500 میں پڑجاتا ہے یعنی فی ٹور اگر 5 لاکھ وصول کرتے ہیں تو انکا منافع اس اک دن کے پکنک ٹور میں 2 لاکھ پچاس ہزار 250,000 بنتا ہے اور تقریباً سال میں ہر اسکول اس طرح کے 2 ٹور لازمی کرواتا ہے
دیگر دنوں کی سیلیبرشن میں بھی فی بچہ 50,100 روپے خرچہ لگاتے ہیں جوکہ انکی خد کی کمائی کا زرعیہ ہیں
اب ایسے میں اگر کوئی غریب و لاچار باپ سرکاری اسکولوں میں پڑھائی نہ ہونے یہ اساتذہ کی بچوں پر عدم توجہ کے باعث بچوں کے بہتر مستقبل کے بارے میں سوچ کر بچہ کو پرائیوٹ اسکول میں داخل کروائیں تو وہاں کے ریت و رواج ہی اپنے
بچہ و والدین جائیں تو جائیں کہاں…………….!؟
اک طرف گورنمنٹ اسکولوں میں اساتذہ کی بداخلاقی و عدم توجہ تو دوسری جانب پرائیوٹ اسکولوں میں والدین کا خون چوسنے کا ماحول عروج پر۔۔۔۔۔۔۔!
خدارا اس ظلم و ستم سے باز آجاؤ اگر کسی ملک کی معیشت تباہ کرنی ہو تو اس کا تعلیمی نظام برباد کر دو، پاکستان میں سکولوں کو این جی اوز کے حوالے کر کے بند کر دینا بھی اسی سازش کی آئینہ داری کرتا ہے۔
معصوم بچوں کا سکول آؤٹ سورسنگ کے نام پر بند کر دیا گیا۔ والدین بے بس، بچے تعلیم سے محروم، این جی او غائب اور حکومت مجرمانہ خاموشی میں ڈوبی ہوئی ہے۔
یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے؟
پڑھے کا پاکستان تو بڑھے گا پاکستان اس پیغام کو عام کرو
اس تحریر کا مقصد حکومت پاکستان بالخصوص حکومتِ سندھ سے اس بات کی اپیل ہے جو جو اساتذہ تعلیمی سرگرمیوں کو تباہ کرنے میں ملوث ہیں انہیں تعلیمی نظام سے برطرف کیا جائے اور انکی جگہ نئے اور قابل اساتذہ کو موقع دیا جائے.
پھر چاہے کوئی وزیرِ سندھ کا خاص بندہ ہو یہ کسی ایم پی ایم این اے کا کوئی خاص چہیتا یہ پھر خود DEO ہی کیوں نہ ہو اس پالیسی کو ختم کرنے کا یہی اک علاج ہے
از قلم ظہیر خان جنجوعہ ✍🏻، ڈسٹرکٹ بیورو چیف روزنامہ آواز ٹائمز
ٹنڈو محمد خان سندھ






