اسلام آباد (آوازٹائمز) ترجمان دفترِ خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام آج بھی بنیادی حقوق سے محروم ہیں، بھارت کی وادی میں ظلم وتشدد کی پالیسیاں جاری ہیں۔ پاکستان آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے عوام میں کوئی تفریق نہیں رکھتا بلکہ دونوں خطوں کے لوگوں کے یکساں توجہ اور حمایت کے مستحق ہونے کا حامی ہے۔ انسانی حقوق سے متعلق ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوے انہوں ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کشمیریوں کو ان کا حقِ خودارادیت ملنا چاہیے، جس؎ کی بین الاقوامی سطح پر ضمانت اقوام متحدہ کی قراردادیں دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں واضح کرتی ہیں کہ کشمیر کی کسی بھی اسمبلی کا فیصلہ حقِ خودارادیت کے بغیر قابلِ قبول نہیں ہو سکتا، یہی قراردادیں کشمیری عوام کے حقوق اور جدوجہد کو مزید تقویت دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی فورمز پر مسلسل کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر اور انسانی حقوق کونسل نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تفصیلی رپورٹس جاری کی ہیں، جو اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ترجمان دفترِ خارجہ نے زور دیا کہ حقِ خودارادیت اقوام متحدہ کے قیام کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔ اور کشمیر کا مسئلہ سیاسی ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کا بھی سنگین مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر بین الاقوامی فورم پر اس مسئلے کو پوری قوت سے اٹھاتا رہے گا تاکہ کشمیری عوام اپنے جائز حق تک پہنچ سکیں۔ سیمینار سے حریت رہنما الطاف حسین وانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں آج انسانی حقوق کا دن منایا جا رہا ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کے عوام اب بھی بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں واضح طور پر تسلیم کرتی ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق حاصل ہے، مگر بھارت نے یہ حق طاقت کے ذریعے چھین لیا ہے۔حریت رہنما نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ایسے قوانین نافذ کر رکھے ہیں جو انسانی حقوق کی مسلسل پامالی کا باعث بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1980 سے اب تک لاکھوں کشمیری شہید کیے گئے جبکہ عالمی اداروں کی متعدد رپورٹس میں مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ الطاف حسین وانی نے کہا کہ کشمیر میں جمعہ کی نماز تک پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں جبکہ پہلگام واقعے جیسے سانحات نے علاقے میں مزید تباہی پھیلائی۔ بھارت نے ظلم کی انتہا کر دی ہے اور دنیا کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ صرف عالمی اداروں کو ذمہ دار قرار دینا کافی نہیں، کشمیریوں کی آواز بلند کرنے میں ہم سب کی بھی ذمہ داری شامل ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مسئلہ کشمیر پر لکھنا، بولنا اور اسے عالمی فورمز سمیت سوشل میڈیا پر اجاگر کرنا ہوگا۔حریت رہنما کا کہنا تھا کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا ایک مؤثر پلیٹ فارم ہے مگر ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا ہم نے کبھی کشمیر سے متعلق کسی واقعے کو عالمی ٹرینڈ بنا کر دنیا تک پہنچایا ہے۔ انہوں نے آزاد کشمیر کے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ آگے بڑھیں اور مسئلہ کشمیر کے حل اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔الطاف حسین وانی نے کہا کہ پاکستان کا عالمی سطح پر اہم مقام ہے اور بھارت گزشتہ 30 برس سے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن پاکستان نے ہمیشہ امن، استحکام اور انصاف کا پیغام دیا ہے






