نسل کشی کے مظالم انسانی ضمیر پر حملہ ہیں،فلسطین

اسلام آباد(آوازٹائمز) سینیٹر(ر) راجہ محمد ظفر الحق، نشانِ امتیاز و سیکرٹری جنرل موتمر العالَمِ اسلام، نے آج اسلام آباد میں مسلم انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام“یومِ یادگارِ شہدائے نسل کشی اور انسدادِ جرمِ نسل کشی”کے حوالے سے منعقدہ سیمینار میں خطاب کیا۔اپنے خطاب میں انہوں نے نسل کشی کو انسانیت کے اجتماعی ضمیر پر حملہ اور عالمی اخلاقی نظام کی سنگین پامالی قرار دیا اور کہا کہ اقوامِ متحدہ کے تحت 9 دسمبر کا دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا میں انصاف ہی عزتِ انسانی کی بحالی کا واحد راستہ ہے۔سینیٹر ظفر الحق نے تاریخی اور موجودہ مظالم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بوسنیا کے سربرینیتسا میں 8,372 سے زائد مسلمان مردوں اور بچوں کا قتلِ عام عالمی تاریخ کا ایک ایسا داغ ہے جو کبھی مٹ نہیں سکتا۔ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر بے انتہا ظلم و جبر نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، اور ان کا مقدمہ آج عالمی عدالت انصاف کے سامنے ہے۔ قبرص کے ترک مسلمان طویل عرصے تک قتل و غارت، محاصروں اور جبری بے دخلی کا شکار رہے، لیکن ان کا دکھ آج بھی عالمی مکالمے میں دب کر رہ گیا ہے۔انہوں نے فلسطین کے موجودہ انسانی بحران پر خاص روشنی ڈالی اور کہا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو سمیت اعلیٰ اسرائیلی قائدین کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر وارنٹس برقرار رکھے ہیں، جو عالمی قانون کی بالادستی کی طرف ایک تاریخی قدم ہے۔سینیٹر ظفر الحق نے کشمیر اور چیچنیا میں جاری ریاستی جبر، جبری گمشدگیوں، انسانی حقوق کی پامالی اور عالمی ضمیر کی خاموشی پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم برادری کے خلاف دنیا بھر میں منظم جبر اور امتیازی سلوک بڑھ رہا ہے اور عالمی طاقتیں خاموش رہ کر ظالم کی معاون بن جاتی ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ مظلوموں کو صرف اعداد و شمار کے طور پر نہیں بلکہ انسانیت کا حصہ سمجھ کر انصاف کے تقاضے پورے کرنے اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔سینیٹر ظفر الحق نے مسلم انسٹیٹیوٹ کی علمی و فکری خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ صاحبزادہ سلطان احمد علی کی قیادت میں ادارے کی بصیرت، حکمت اور جرات قابلِ تحسین ہے۔آخر میں انہوں نے قرآن کریم کی آیت (المائدہ 5:8) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔”انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ دنیا کے مظلوموں کو استقامت، مظاہرین کو ہمت، اور ہم سب کو ظلم کے مقابلے میں ثابت قدمی عطا فرمائے۔اس موقع پر اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل موتمر العالم الاسلامی راجہ محمد علی، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، اور سابق مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب بھی موجود تھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں