ملتان(روزنامہ آواز ٹائمز)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہیکہ نوجوان ہمارامستقبل ہیں اور ملک کی ترقی و خوشحالی کی کنجی ان کے ہاتھ میں ہے، ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا ہو گا، آئندہ حکومت ملی تو ایک لاکھ نہیں،50 لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کروں گا، سابق حکومت نے بڑے صنعتکاروں میں 3 ارب ڈالر بانٹے، یہ رقم تعلیم پر خرچ ہوتی تو آج پاکستان کوآئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑتا، شبانہ روز محنت سے قرضے لینے والی نہیں، دینے والی قوم بنیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو بہاؤ الدین زکریایونیورسٹی میں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت نوجوانوں میں وزیرِ اعظم یوتھ لون سکیم کے تحت چیک اور لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتیہوئے کیا۔اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب، گورنر پنجاب انجینئر بلیغ الرحمن، نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی اور وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے امور نوجوانان شزہ فاطمہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی عطاتارڑ کے علاوہ اساتذہ اور طلبا و طالبات کی بڑی تعداد موجود تھی۔وزیراعظم نے کہا کہ اسی یونیورسٹی میں انہوں نے میرٹ پر پہلے بھی طلبا و طالبات کو لیپ ٹاپ دیئے تھے اور آج دوبارہ انہیں یہ موقع ملا ہے کہ وہ یہاں کے ہونہار طلباو طالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم کریں۔ وزیراعظم نے طلباو طالبات پر زور دیاکہ وہ محنت اور لگن سے تعلیم حاصل کریں تو کسی سفار ش اور رشوت کی ضرورت نہیں۔ آج اس تقریب میں ایک والد کی شفقت سے محروم بچی کی داستان سن کر انہیں بڑی خوشی ہوئی جس نے صرف اور صرف محنت کے بل پر کامیابی حاصل کی۔وزیراعظم نے کہا کہ رشوت، سفارش اور اقربا پروری سے قومیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ جو قومیں ماضی غلطیوں سے سبق حاصل کر کے آگے بڑھتی ہیں ان قوموں کی ترقی کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا۔ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں۔ ملک کی ترقی اور کامیابی کی کنجی ان کے ہاتھ میں ہے۔ ایک لاکھ لیپ ٹاپ کی تقسیم آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں، اگر وسائل میسر ہوں تو میں ایک لاکھ نہیں ایک کروڑ لیپ ٹاپ تقسیم کروں۔انہوں نے کہا کہ کل اسلام آباد میں انہوں نے پاکستان انڈوومنٹ فنڈ کا اجرا کیا۔یہ پروگرام ہم نے پنجاب میں شروع کیا تھا جب میں خادم پنجاب تھا۔ اس پروگرام سے لاکھوں طلبا وطالبات کو 22 ارب روپے کے وطائف دیئے گئے۔یہ وظائف حاصل کرنے والے طلبا و طالبات میں سے کئی یورپ کی درسگاہوں میں بھی اعلیٰ تعلیم کے لئے گئے۔انہوں نے کہا کہ آج ایک نوجوان نے مجھے بتایا کہ وہ اور اس کا والد دونوں مزدوری کرتے ہیں۔ بے شمار طلبا و طالبات ایسے ہیں جو والدین سے محروم ہیں، ان سمیت تمام بچے ریاست کی ذمہ داری ہیں اور ریاست اپنی یہ ذمہ داری پوری کر یگی۔ نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔ میں نے جنوبی پنجاب سے دانش سکولوں کا آغازکیا تھا۔






