اسلام آباد (روزنامہ آواز ٹائمز)پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو اسلام آباد سے گرفتار کرلیا گیا۔ ترجمان پی ٹی آئی نے پی ٹی آئی کے ٹویٹر پیج پر اپنے ردعمل میں کہا کہ تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو گرفتار کرلیا گیا ہے، شاہ محمود قریشی کو اسلام آباد میں ان کی رہائشگاہ سے پولیس کی بھاری نفری نے گرفتار کیا۔شاہ محمود قریشی کو ایف آئی اے ہیڈکوارٹر منتقل کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب ایف آئی اے کی جانب سے شاہ محمود قریشی کی گرفتاری سے متعلق کوئی خبر ابھی سامنے نہیں آئی۔ یاد رہے اس سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے وائس چئیرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عمران خان کا کوئی متبادل نہیں ہو سکتا، انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایک میڈیا گروپ نے کور کمیٹی سے متعلق ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی۔اس قسم کی خبریں من گھڑت ہیں،ہماری قانونی ٹیم جن حالات میں کام کر رہی ہے اس سے بخوبی واقف ہیں۔اس طرح کی خبریں سازش کے تحت پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ پارٹی میں کنفیوژن پیدا کی جا سکے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عمر ایوب نے فوری طور پر تمام خبروں کو سمجھداری سے رد کیا۔پوری دنیا جانتی ہے کہ عمران خان تحریک انصاف کے چئیرمین ہیں اس کے باوجود پی ٹی آئی قیادت میں کشمکش سے متعلق خبریں پھیلائی گئیں،عمران خان کا متبادل کوئی نہیں ہو سکتا،نہ کوئی ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔تحریک انصاف کی کور کمیٹی مشکل حالات میں کام کر رہی ہے، شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ کل رات سے عثمان ڈار کی بوڑھی والدہ اور بہو بیٹیوں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں ملتا، رات کے 2 بجے بچوں کو سڑک پر لاکھڑا کرنا تکلیف دہ ہے۔کارکنوں کو بند کیا گیا، فیکٹریوں کو سیل کیا گیا۔عثمان ڈار کے اہلخانہ کے ساتھ کیے جانے والے سلوک کہ مذمت کرتا ہوں۔شاہ محمودقریشی نے مزید کہا کہ محسن لغاری کے بچے کو اٹھا لیا گیا، اس پر تشدد کیا گیا۔ نگران وزیراعظم نے کہا تھا کہ وہ صاف شفاف الیکشن کو یقینی بنائیں گے تو کیا اس ماحول میں صاف الیکشن ہوں گے۔ چیف جسٹس کو ان اقدامات کا نوٹس لینا چاہئیے۔الیکشن کمیشن سے سوال کرتا ہوں کہ کیا ان حالات کو آپ لیول پلئنگ فیلڈ تصور کرتے ہیں۔نگران وزیراعظم اور چیف جسٹس پی ٹی آئی کے ساتھ انصافیوں کا نوٹس لیں۔ وائس چئیرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ 90 دن میں انتخابات کرانے کے حوالے سے آئین واضح ہے۔ 90 دن سے زائد حکومت کی گئی تو وہ غیر آئینی ہو گا۔






