کوئٹہ(روزنامہ آواز ٹائمز)وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہاہے کہ محدود فنڈز میں بلوچستان کودوسرے صوبوں کے برابر لاناممکن نہیں،جب بھی وفاق میں نئی حکومت آتی ہے بلوچستان کی پسماندگی کی بات کی جاتی ہے بدقسمتی سے پسماندگی کے خاتمے کے لیئے عملی اقدامات نہیں کیئے جاتے اختیار و اقتدار رکھنے والوں کو سنجیدگی سے سوچنا ہو گا کہ باقی صوبے آگے گئے تو بلوچستان کیوں پیچھے رہ گیا، ترقیاتی مد میں ہمیں 120 ارب روپے دستیاب ہو تے ہیں اگر ترقیاتی فنڈز میں 300 ارب روپے تک اضافہ کیا جائے تو صوبے اور عوام کی بہتری کے لیے اچھا کام ہوگا۔۔میرعبدالقدوس بزنجو نے کہاکہ بلوچستان آدھا پاکستان ہے ہمیں این ایف سی ایوارڈ کے تحت اتنے فنڈز نہیں ملتے کہ ہم لوگوں کے مسائل حل کر سکیں محدود فنڈز کے حامل بلوچستان کو دوسرے صوبوں کے برابر لانا ممکن نہیں جب بھی وفاق میں نئی حکومت آتی ہے بلوچستان کی پسماندگی کی بات کی جاتی ہے بدقسمتی سے پسماندگی کے خاتمے کے لیئے عملی اقدامات نہیں کیئے جاتے اختیار و اقتدار رکھنے والوں کو سنجیدگی سے سوچنا ہو گا کہ باقی صوبے آگے گئے تو بلوچستان کیوں پیچھے رہ گیا بلوچستان کی غربت اور پسماندگی کی بنیادی وجہ فنڈز کی عدم دستیابی اور عدم توجیحی ہے یہ وہ صوبہ ہے جو آدھا پاکستان ہونے کے باوجود پسماندہ بھی ہے این ایف سی ایوارڈ میں جو شئیر ہمیں ملتا ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے آدھے پاکستان کو سکیورٹی دینا ایک بہت بڑا چیلنج ہے جس پر ہمارے وسائل کے 40 فیصد فنڈز خرچ ہو جاتے ہیں اگر ہم یہ سیکیورٹی برقرار نہ رکھیں تو اسکا اثر دیگر صوبوں پر بھی پڑے گا یہ وہ حقائق ہیں جن سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی اور انہیں سنجیدگی سے دیکھنے اور حل کرنے کی ضرورت ہے جن لوگوں کو عوام نے منتخب کیا ہے ہمیں ان کا حق نہیں مارنا چاہیے سیاسی مخالفت اپنی جگہ لیکن منتخب نمائندے کو انکے علاقے کی ترقی کا حق ملنا چاہیے ہم سب کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھتے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ پورے بجٹ سیشن میں کوئی مخالفت نظر نہیں آئی میرا طریقہ کار اور لوگوں سے ملنا جلنا ایک الگ انداز کا ہے میں اپنے دوستوں کے ساتھ ہر وقت کھڑا ہوتا ہوں ہم اپنی حدود میں رہتے ہوئے آئین اور قانون کے مطابق اپنا حق مانگ رہے ہیں ہمیں غلط نظر سے نہ دیکھا جائے ہر صوبہ اپنا حق مانگتا ہے ہم بھی مانگ رہے ہیں ہمارے دو ٹوک اور ٹھوس موقف سے بہت سی چیزیں بہتر ہوئی ہیں جنہیں ہم تسلیم بھی کرتے ہیں 2015 سے پی پی ایل کے تعطل کا شکار معاملات میں پیش رفت کی توقع ہے صوبے احتجاج کرتے رہتے ہیں یہ ایک معمول کی بات ہے ترقیاتی مد میں ہمیں 120 ارب روپے دستیاب ہو تے ہیں اگر ترقیاتی فنڈز میں 300 ارب روپے تک اضافہ کیا جائے تو صوبے اور عوام کی بہتری کے لیے اچھا کام ہوگا ریکوڈک کے معاہدے پر تمام پارٹیوں کو آن بورڈ لیا اور حل بھی مل کر تلاش کیا ہم نے یہ سوچا کہ اس مسئلے کو سب کے سامنے رکھا جائے ریکو ڈک معاہدے کو سامنے لانے کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو یہ احساس نہ ہو کہ ہم کوئی چوری کر رہے ہیں ہم جو بھی مانگتے ہیں مالک کائنات سے مانگتے ہیں کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے ہیں وزیراعظم نے سیلاب زدگان کی امداد اور بحالی کے لیے 10 ارب روپے کا جو وعدہ کیا تھا وہ بھی ہمیں نہیں ملے ہمارے اپنے پاس بھی وسائل کم تھے لیکن ڈونر ایجنسیوں نے اس موقع پر ہمارا خوب ساتھ دیا قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیئے اپنی بساط کے مطابق اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ مالک کائنات سے بھی رجوع کرتے ہیں ہم سب کو ساتھ لے کر چلنے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں آج مالک کائنات نے اگر اقتدار پر بٹھایا ہے تو میں سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہوں،انہوں نے کہاکہ آواران اور دیگراضلاع کا بجٹ برابر ہے میری سوچ ہے کہ سیاسی مخالفین کے حلقوں کو بھی اتنے ہی فنڈز ملیں جتنے کہ آواران کو ملیں ہم نے باپ پارٹی اس لیے بنائی کہ بلوچستان کے فیصلے بلوچستان میں ہوں میں زرداری صاحب کے سیاسی تدبر اور ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا نہ صرف قائل ہوں بلکہ اسے تسلیم بھی کرتا ہوں میں مانتا ہوں کہ میرا ارادہ تھا کہ میں پاکستان پیپلز پارٹی جوائن کروں میرے چند دوستوں نے مشورہ دیا کہ میں اپنے صوبے کی خدمت باپ پارٹی میں رہتے ہوئے بھی کر سکتا ہوں اس وقت میں نے پارٹی کی صدارت بھی سنبھالی اور ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم باپ پارٹی کے پلیٹ فارم سے ہی بلوچستان کی حقوق کی بات کریں گے عوام نیکوئی احتجاج یا کسی ایم پی اے کو ناراض نہیں دیکھا ہوگا یہ سب اس مالک کی مہربانی ہے،انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ کا کام ہے کہ بڑے فیصلے لے نہ کہ فوٹو سیشن کرے بارڈر پر ایرانی ڈیزل اور پٹرول کے کاروبار پر نرمی برتی جا رہی ہے ہمارا کام لوگوں کے زریعہ معاش کو تحفظ دینا ہے تاکہ انکے گھروں کے چولہے جلتے رہیں یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا کہ جب تک ہم اپنے عوام کو متبادل ذرائع معاش فراہم نہیں کرتے تب تک ہمیں ان سے یہ روزگار نہیں چھیننا چاہیے ہمارے صوبے میں سرکاری نوکریاں کم ہیں اور صنعتیں بھی نہیں ہیں اگر لوگ بے روزگار ہوں گے تو بے راہ روی کا شکار ہو جائیں گے






