اسلام آباد(روزنامہ آواز ٹائمز)وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی،اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پائیدار ترقی اہداف دراصل بین الاقوامی ترقی کا ایجنڈا نہیں بلکہ یہ ہمارے ملک کی ترقی کا یا کسی بھی ملک کی ترقی کا ایک پائیدار ایجنڈا ہے جس کے ذریعے اپنے عوام کو اپنے لوگوں کو ایک معیاری زندگی کے لئے کم سے کم سہولیات اور حقوق دے سکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ غربت، بھوک اور بے روزگاری کا خاتمہ یہ وہ اہداف ہیں کہ جن کو پورا کرنے کے لئے ہمیں کسی بین الاقوامی یادداشت یا کسی بین الاقوامی معاہدے کی ضرورت نہیں ہے، انہیں ہم نے اپنی ترقی کے لئے از خود پورا کرنا ہے، پاکستان نے پائیدار ترقی اہداف کے اوپر دنیا میں پاکستان نے سب سے پہلے عملدرآمد شروع کیا،ہماری قومی اسمبلی نے ان کو نیشنل ڈویلپمنٹ بورڈ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ 2018 کے بعد سابق حکومت نے اس اہداف کو برقرار نہیں رکھا۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر اور سول سوسائٹی کو ہم نے شریک کیا ہے اور جب تک یہ تمام کوششیں اکٹھی نہیں ہوں گی ہم پائیدار ترقی اہداف کو حاصل نہیں کر سکتے، غربت اور بھوک یہ ایسی بیماریاں ہیں کہ جس معاشرے کے اندر ہوں وہ معاشرہ کبھی پائیدار ترقی نہیں کر سکتا،اگرچہ ہم خوراک کے حوالہ سے محفوظ ملک تھے لیکن اب ہماری جو موسمیاتی تبدیلیاں ہیں ان کے نتیجے میں ایک بہت بڑا خطرہ فو ڈسکیورٹی بن چکا ہے اور اس بات کا اندیشہ ہے کہ وہ علاقے جہاں پر موسمیاتی تبدیلی زیادہ اثر کرے گی ان لوگوں کے لئے خوراک حاصل کرنا،پیدا کرنا اس میں بہت مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں،پچھلے سال پاکستان میں جو بدترین موسمیاتی تباہی آئی اس میں بالخصوص سندھ اور بلوچستان کے پسماندہ ترین علاقوں میں خوراک اور غذائیت کا بدترین بحران پیدا کر دیا۔انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں پہلے بھی غربت تھی لیکن سیلاب نے ان کے مسائل میں دگنا اضافہ کر دیا اور ان علاقوں کیلئے حکومت نے ایک نئی پالیسی متعارف کرائی جس کو سبز انقلاب 2.0 قرار دیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے سبز انقلاب کے ذریعے خوراک کی کمی پر قابو پایا تھا، اب ضرورت ہے کہ جو نئی ٹیکنالوجیز ہیں اس کی مدد سے ہم اپنی زراعت کے شعبہ کو بہتر کریں۔






