اسلام آباد(آوازٹائمز)پاکستان اور کرغزستان کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اسلام آباد میں پاکستان–کرغزستان بزنس فورم کا انعقاد کیا گیا۔ فورم کا آغاز تلاوتِ قرآن مجید اور دونوں ممالک کے قومی ترانوں سے ہوا۔ فورم میں کرغزستان کے 20 رکنی کاروباری وفد نے شرکت کی، جبکہ پاکستان کی 83 کاروباری کمپنیوں نے بھی اپنی مصنوعات اور منصوبے پیش کیے۔ اس موقع پر مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے کئی اہم مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے گئے، جن میں فارما، آئی ٹی، مائننگ، انرجی، لاجسٹکس اور بینکنگ کے شعبے شامل ہیں۔اس فورم میں وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور کرغزستان کے صدر سادیر ژاپاروو نے خصوصی شرکت کی۔ دونوں رہنماؤں نے اپنے خطاب میں اقتصادی تعلقات کے فروغ اور تجارتی روابط بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ خطے کی ترقی اور خوشحالی صرف مضبوط روابط اور تجارت کے ذریعے ہی ممکن ہے، اور پاکستان کرغزستان کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان اور کرغزستان نے 2027-28 تک دوطرفہ تجارت کو 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی صلاحیت ابھی پوری طرح سے استعمال نہیں ہو رہی، اور اس فورم کا مقصد اس صلاحیت کو بروئے کار لانا ہے۔ وزیر تجارت نے پاکستان کے ڈیپ سی پورٹس اور کرغزستان کی یوریشین لوکیشن کو خطے کے لیے اسٹریٹجک اہمیت کا حامل قرار دیا اور کہا کہ کراچی اور گوادر پورٹس خطے کی تجارت کا مرکز بن سکتے ہیں۔پاکستان اور کرغزستان کے درمیان مختلف شعبوں میں 11 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ ان میں فارماسیوٹیکلز، آئی ٹی، مائننگ، انرجی، لاجسٹکس اور بینکنگ کے شعبے شامل ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات میں مزید ترقی کا باعث بنیں گے۔ ان ایم او یوز کے ذریعے دونوں ممالک میں مشترکہ منصوبوں کے آغاز اور تجارتی کوریڈورز کے فروغ کی راہ ہموار ہوگی۔فورم میں پاکستان اور کرغزستان نے ایک مشترکہ ایکشن پلان تشکیل دینے پر اتفاق کیا، جس میں زمینی اور فضائی روابط کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔ وزیر تجارت جام کمال خان اور کرغز وزیر بیکت سیدیکوف نے اس ایکشن پلان پر دستخط کیے۔ اس ایکشن پلان کے تحت دونوں ممالک میں تجارتی راستوں کو مزید سہل بنایا جائے گا، اور ٹرانسپورٹ کے نظام میں بہتری لائی جائے گی۔فورم کے دوران پاکستان کے تجارتی اداروں اور کرغز نیشنل انویسٹمنٹ ایجنسی کے نمائندوں نے سرمایہ کاری کے مختلف شعبوں پر تبادلہ خیال کیا۔ کرغز نیشنل انویسٹمنٹ ایجنسی کے ڈائریکٹر آر اے سابیروف نے کرغزستان میں سرمایہ کاری کے اہم شعبوں پر بریفنگ دی، جبکہ ٹی ڈی اے پی کے سی ای او فائز احمد نے پاکستان کے تجارتی مواقع اور حکومتی پالیسیوں پر پریزنٹیشن دی۔وزیر تجارت جام کمال خان نے اس فورم کو پاکستان–کرغزستان اقتصادی تعلقات میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ نجی شعبہ دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کا اصل محرک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ریگولیٹری رکاوٹوں کو کم کرنے اور سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید تقویت ملے۔کرغزستان کے صدر سادیر ڑاپاروو نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کو کرغزستان کے دورے کی دعوت دی، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات میں مزید بہتری لانا ہے۔ کرغز صدر نے کہا کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان نئے تجارتی مواقع پیدا ہوں گے اور دونوں ممالک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا جائے گا۔اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام نے نجی شعبہ کے تعاون میں اضافہ کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان اقتصادی تعلقات میں مزید بہتری لانے کے لیے دونوں ممالک کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا






