باغ (آن لائن) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور کشمیر لازم و ملزوم یک جان دو قالب ہیں، آزاد کشمیر کے بغیر پاکستان اور مقبوضہ کشمیر کے بغیر آزاد کشمیر نامکمل ہے،باغ کا الیکشن مسلم لیگ (ن) ہی جیتے گی،2018ء میں ایک فتنے کو مسلط کیا گیا جس نے ملک کو معاشی لحاظ سے تباہ کردیا، اس کو گرفتار کیا گیا تو اس کے ورکروں اوررہنماؤں نے عسکری تنصیبات اور شہداء کی یادگاروں پر حملے کردیئے جن پر حملے کی جرات 75سالوں سے ہمارا زلی دشمن بھی نہیں کرسکتا،پاکستان اور آزاد کشمیر پر جب بھی مشکل وقت آیا تو اس مشکل وقت سے مسلم لیگ (ن) نے ہی قائد نواز شریف کی قیادت نے نکالا،نواز شریف کے دور میں ریکارڈ ترقیاتی کام پاکستان اور آزاد کشمیر میں کئے گئے، قائدنواز شریف نے آزاد کشمیر کو مالی اور انتظامی طور پر خود مختار بنایا، ملک کو ایٹمی قوت بنا کر ناقابل تسخیر بنا دیا، عمران خان کو دہشتگردی اور غداری کا حساب دینا ہوگا، جوڈیشل اسٹیبلشمنٹ اس کو زیادہ دیر تک نہیں بچا سکتی عوام حساب لے کر رہیں گے، نوجوانوں کو ریڈ لائن کا نعرہ دے کرگمراہ کیا گیا اور اپنی ہی ملک اور فوج پر حملہ آورکروادیاگیا۔
آزاد کشمیر کے علاقے باغ میں شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ میں آپ کی، راجہ فاروق حیدر، مشتاق منہاس کی محبت میں یہاں آیا ہوں اور الیکشن میں آپ سے شیر کو ووٹ دینے کی استدعا کرتا ہوں مجھ یقین ہے کہ باغ کا الیکشن مسلم لیگ (ن) ہی جیتے گی۔ وزیر د اخلہ نے کہا کہ پاکستان اور کشمیری عوام یہ دو قالب ایک جان ہیں پاکستان اور کشمیر لازم و ملزوم ہیں کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے اور مقبوضہ کشمیر کے بغیر آزاد کشمیر نامکمل ہے کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اس کے بغیر پاکستان کا زندہ رہنا مشکل ہے یہ پاکستان کی سانسوں میں بسی ہوئی بستی ہے اور جنت نظیر ہے پاکستان اور آزاد کشمیر میں جب جب بھی کوئی وقت اگر پاکستان میں ترقی کا دور شروع ہوا تو آزاد کشمیر میں بھی وہ دور شروع ہوگیا اور کوئی مشکلات پاکستان میں درپیش آئیں تو وہ مشکلات آزاد کشمیر میں بھی درپیش آئیں یہ بات آپ کے علم ہے کہ پاکستان جب بھی مشکلات کا شکار ہوا بحرانی کیفیت پیدا ہوئی تو ایک ہی جماعت اور ایک ہی قائد ہے جس نے اس بحران سے نکالا اور وہ جماعت مسلم لیگ (ن) اور قائد نواز شریف ہیں وہ 1997کا دور ہو جب بھارت نے ایٹمی دھماکے کئے اور پوری دنیا ایک طرف ہوگئی اور امریکہ بہادر نے کہا کہ انڈیا کے بعد پاکستان ایٹمی ملک نہیں بن سکتا کیوں کہ دنیا کو قابل قبول نہیں کہ کوئی اسلامی ملک ایٹمی ملک بنے اس وقت پاکستان میں حکومت مسلم لیگ (ن) کی تھی اور قائد نواز شریف تھے اور پوری دنیا کی مخالفت کے باوجود ہم نے ایٹمی دھماکے کئے گیارہ مئی کو جب بھارت نے ایٹمی دھماکے کئے تو ایل کے ایڈوانی نے کہا کہ اب پاکستان کو کشمیر اور تمام معاملات میں ہوش سے بات کرنی چاہیے تو اس کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے دنیا کی تمام دھمکیوں کے باوجود نواز شریف نے 28مئی کو انڈیا کے پانچ دھماکوں کا جواب چھ ایٹمی دھماکے کرکے دیا اور پاکستان دنیا کے نقشے میں پہلی اسلامی ایٹمی ملک بن کر ابھرا اس وقت بھی پوری دنیا نے پاکستان کا بائیکاٹ کیا پابندیاں لگائیں مگر اس بحران سے بھی پاکستان میاں نواز شریف کی قیادت میں نکل آیا اور پھر ایک سازش ہوئی اور ملک میں دس سال کیلئے مارشل لاء لگادیا گیا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں نہ دہشتگردی کا واقعہ تھا نہ بم دھماکے تھے نہ لوڈ شیڈنگ تھی مگر اگلے سالوں میں یہاں دہشتگردی بھی آئی اور بیس بیس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ بھی آئی اور پاکستان کی حالت یہ تھی کہ سرمایہ کاری کرنے والے دبئی میں بیٹھ کر کہتے تھے کہ دبئی میں آکر کاروبار کرلیں ہم پاکستان نہیں آسکتے 2013ء میں آپ نے دوبارہ مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کیا اور دوبارہ نواز شریف کو وزیراعظم بنایا جس کے بعد یہ نواز شریف کی سیاسی معاشی سمجھ بوجھ تھی کہ انہوں نے کشمیر میں مخالفت جماعت ہونے کے باوجود ان کے ساتھ تعاون کیا اور انہیں مدت پوری کرنے دی 2013ء سے2017ء تک فیگر اٹھا کر دیکھ لیں اور پوری دنیا کہہ رہی کہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں نہ صرف لوڈ شیڈنگ ختم ہوئی بلکہ دہشتگردی کا قلعہ قمع کردیاگیا یہ دونوں مسائل تھے جن کی وجہ سے پاکستان آگے نہیں بڑھ رہا تھا اور لوگ کہہ رہے تھے کہ اگر ان مسائل پر قابو پالیا جائے تو پھر پاکستان کو آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا اور پھر یہ دنیا نے دیکھا کہ اس ملک سے لوڈ شیڈنگ اور دہشتگردی کا خاتمہ ہوگیا اور پھر ایک بار پھر سازش رچائی گئی اور اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ اور جوڈیشل اسٹیبلشمنٹ نے جس میں ایک بابا رحمتے تھا جو بعد میں بابا زحمت بن کر سامنے آیا وہ اب منہ چھپا کر پھرتا ہے انہوں نے میاں نواز شریف کیخلاف ایک جوڈیشل سازش کی اور میاں نواز شریف کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے جرم میں نااہل کردیا اور پاکستان کو ایک بار پھر بحرانوں میں اندھیروں میں دھکیل دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو جس کو لانے کیلئے 2014ء سے سازشیں ہورہی تھی کو مسلط کردیاگیا اور میں کہتا ہوں کہ اگر اس فتنہ کا قلع قمع نہ کیا گیا تو یہ پاکستان کو تباہ و برباد کردے گا اس کی سیاست صرف دھرنا، سول نافرمافی، ریاست سے بغاوت، جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ کے گرد گھومتی ہے اس نے اوورسیز پاکستانیوں کو کہا کہ ہنڈی کے ذریعے پیسے بھیجیں اس نے بل جلائے،اس نے دھرنا دیکر ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اس نے پی ٹی وی، سپریم کورٹ، جوڈیشل کمپلیکس پر پارلیمنٹ پر چڑھائی کی یہ اس وقت سے اس بغاوت کی تیاری کررہا تھا اور 2018ء میں اس کے تمام گناہوں پر پردہ ڈال کر اور دہشتگردی کے مقدمات ختم کرکے اس کو سازش کرکے قوم پر مسلط کردیاگیا






