اسلام آباد(روزنامہ آواز ٹائمز) قومی اسمبلی کے اجلاس میں اراکین اسمبلی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کے خلاف آواز ایوان میں بلند کر دی اور کہا کہ حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ وعدے کیے یاد ہیں لیکن عوام کے ساتھ وعدے کیے یاد نہیں،حکومت پیٹرولیم مصنوعات کے قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ ظالمانہ ہے اس کو واپس لیا جائے قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر زاہد اکرم دورانی کی سربراہی میں منعقد ہوا اجلاس میں ایم کیو ایم رکن صلاح الدین نے کہاکہ وزیر خزانہ نے 20روپے پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کردی ہے عوام کے پاس آمدنی کے ذرائع نہیں ہیں جس کی وجہ سے خودکشی کررہے ہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ کمیٹمٹ یاد ہے عوام کے ساتھ جو کمیٹمنٹ کی یے وہ یاد نہیں ہے یہ ظالمانہ فیصلہ ہے اس کو واپس لیا جائے۔اجلاس میں مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہاکہ پہلے 30یونیورسٹیاں بننے کے بل پاس کئے ہیں آج دوبارہ ایجنڈے میں ایک درجن یونیورسٹیاں بنائی جارہے ہیِں۔ کس انداز میں یونیورسٹی بنارہے ہیں پاکستان کو یونیورسٹیستان بنارہے ہیں۔ جس پر ڈپٹی سپیکر نے کہاکہ جتنے زیادہ یونیورسٹیاں ہوں گی مقابلہ ہوگا ایچ ای سی سے منظوری سے بل ایوان میں آتے ہیں۔ وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر نے کہاکہ 90فیصد بل جو آئے ہیں جو معیار پر پورے اترتے ہیں ان کو منظور کریں گے۔ کسی کے پاس زمین عمارت نہیں ہے قواعد پورے کریں گے تو ان کو ایچ ای سی این ان کو این او سی دے گی۔ ایچ ای سی کی این او سی کے بغیر ڈگری کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے۔ایچ ای سی میں ترمیم لاتے ہیں تو مافیہ اس کو روکتا ہے۔اجلاس میں صابر حسین قائمخانی نے قرارداد ایوان میں پیش کی کہ انجینئر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں انجینئرنگ پروفیشن کے لیے قانون سازی کی جائے قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی رکن اسمبلی رانا قاسم نون نے قرارداد پیش کی کہ گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کانام فیروز خان نون کے نام سے منصوب کیا جائے قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی گئی۔رکن اسمبلی عالیہ کامران نے قرارداد پیش کی کہ کم ازکم اجرت پر فوری عمل درآمد کیا جائے قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔






