اسلام آباد (روزنامہ آواز ٹائمز) چین کے نائب وزیراعظم ہی لی فینگ کے دورہ پاکستان کے موقع پر پاکستان اور چین کے درمیان دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے 6 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہو گئے، اس میں سی پیک کی مشترکہ تعاون کمیٹی کی دستاویز، سی پیک فریم ورک کے تحت ماہرین کے تبادلے کے طریقہ کار کے قیام، پاکستان سے چین کو خشک مرچوں کی برآمد، قراقرم ہائی وے فیز II پراجیکٹ کی فزیبلٹی اسٹڈی کی دوبارہ ترتیب، سفارتی ذرائع سے انڈسٹریل ورکرز ایکسچینج پروگرام کے مفاہمت نامے شامل ہیں، دونوں فریقوں نے اسٹریٹجک ایم ایل ون منصوبے کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ پیر کو پاکستان اور چین کے درمیان دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے 6 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہو گئے ہیں۔معاہدے پر دستخط کی تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان کے دورے پر آئے ہوئیچین کے نائب وزیراعظم ہی لی فینگ نے شرکت کی۔وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال اور عوامی جمہوریہ چین کے قومی ترقی اور اصلاحات کمیشن کے وائس چیئرمین نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی مشترکہ تعاون کمیٹی کی دستاویز پر دستخط کیے۔ دوسری دستاویز پر وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال اور عوامی جمہوریہ چین کے قومی ترقی اور اصلاحات کمیشن کے وائس چیئرمین نے دستخط کیے، یہ سی پیک فریم ورک کے تحت ماہرین کے تبادلے کے طریقہ کار کے قیام سے متعلق ہے۔ تیسری دستاویز پر سیکرٹری وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی ظفر حسن اور چینی چارج ڈی افیئرز پینگ چنکسو نے پاکستان سے چین کو خشک مرچوں کی برآمد کے لیے مفاہمت نامے پردستخط کیے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ممبر پلاننگ عاصم امین اور چینی چارج ڈی افیئرز پینگ چنکسو نے قراقرم ہائی وے فیز II پراجیکٹ کی فزیبلٹی اسٹڈی کی دوبارہ ترتیب سے متعلق چوتھی دستاویز پر دستخط کیے۔ دونوں فریقوں نے سفارتی ذرائع سے انڈسٹریل ورکرز ایکسچینج پروگرام کے مفاہمت نامے پر بھی دستخط کیے۔ دونوں فریقوں نے اسٹریٹجک ایم ایل ون منصوبے کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج دستخط ہونے والی دستاویزات کا مقصد پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دینا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک کے تحت پاکستان کے پاور اور ہائیڈل سیکٹر، روڈ انفراسٹرکچر اور پبلک ٹرانسپورٹ میں پچیس ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اب سی پیک کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جس میں زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری پر غور کیا جائے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ مستقبل کے چینی صدر شی جن پنگ کے وژن میں کردار ادا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایل ون اور کراچی سرکلر ریلوے دونوں منصوبے بہت اہمیت کے حامل ہیں، دونوں فریق یہ اور بہت سے دوسرے منصوبوں کو کامیابی سے مکمل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملک میں امن اور خوشحالی کے حصول کے لیے ترقی کے چینی ماڈل کی تقلید کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین دونوں کے درمیان منفرد تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سدا بہار دوست، آہنی بھائی ہیں اور یہ دوستی جاری رہے گی اور اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کریں گے۔






