کام سی ٹی ایس پی کا اور نام سرداربہادر خان وومن یونیورسٹی کااستعمال کیاجارہاہے

کوئٹہ (روزنامہ آواز ٹائمز) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے صوبائی صدر ملک عمران کاکڑ ودیگر نے کہاہے کہ محکمہ تعلیم بلوچستان 9ہزار آسامیوں کیلئے بھرتی کا ٹھیکہ وفاقی ادارے کو کیسے دے سکتاہے،میرٹ کی بحالی کیلئے مذکورہ آسامیاں پبلک سروس کمیشن کو دی جائیں،کام سی ٹی ایس پی کا اور نام سرداربہادر خان وومن یونیورسٹی کااستعمال کیاجارہاہے،سی ٹی ایس پی کادفتر کوئٹہ جبکہ ایڈریس اسلام آباد کاظاہرکیاگیاہے،کیا سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی کا خواتین عملہ دوردراز علاقوں میں فرائض سرانجام دے سکتے ہیں؟ان خیالات کااظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں میر طاہر شاہوانی، جہانزیب موسی خیل، عالم زیب کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ملک عمران کاکڑ نے کہاکہ بلوچستان بھر میں محکمہ تعلیم کی بربادی اور خالی آسامیوں کی خرید و فروخت اور میرٹ کے برعکس بندر بانٹ وزیر تعلیم نصیب اللہ مری اور سیکرٹری تعلیم سکولز عبدالرف بلوچ کی غفلت روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ محکمہ سکول بلوچستان میں یونین کونسل کی سطح پر حالیہ 9 ہزار اساتذہ کی بھرتیوں کا ٹھیکہ ایک پرائیویٹ کمپنی (CTSP) کیئریرٹیسٹینگ سروس آف پاکستان اور سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کوئٹہ کو مشترکہ طورپر دیا گیا ہے جو کہ سفارش کلچر کو فروغ دینے محکمہ تعلیم کی نااہلی اور میرٹ کے برعکس اقدام ہے کیونکہ خواتین کی بروری روڈ پر واقع یونیورسٹی سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی وفاقی حکومت، گورنر ہاس اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے زیر اہتمام چل رہا ہے تو اس صورت میں محکمہ اسکول حکومت بلوچستان نے حالیہ 9 ہزار پوسٹوں پر بیروزگار نوجوانوں کو بھرتی کرنے کا ٹھیکہ وفاقی حکومت کے ادارے کو کیسے دے سکتا ہے؟سی ٹی ایس پی (CTSP) کیئریرٹیسٹینگ سروس آف پاکستان کی ماضی میں بھی محکمہ تعلیم کی بھرتیوں کے اسکینڈلز میڈیا کی زینت بنے ہیں اور مختلف کیسز اس کمپنی کے خلاف عدالتوں میں چل رہے ہیں اس لئے وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر حسین، گورنر بلوچستان ملک عبدالولی کاکڑ، وزیر اعلی عبدالقدوس بزنجو اور چیف سیکرٹری بلوچستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کوئٹہ اور (CTSP) کیئریرٹیسٹینگ سروس آف پاکستان کو محکمہ تعلیم کے 9 ہزار آسامیوں کا ٹھیکہ واپس لیکر پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ٹیسٹ و انٹرویو کا انعقاد کیاجائے تاکہ میرٹ پر نوجوانوں کو بھرتی کیاجاسکے۔چونکہ عدالت نے (CTSP) کیئریرٹیسٹینگ سروس آف پاکستان کے ذریعے بلوچستان کے تمام محکموں میں بھرتیوں پر پابندی لگائی ہے اس لئے محکمہ تعلیم کی حالیہ آسامیوں میں اس کمپنی نے صوبائی وزیر تعلیم نصیب اللہ مری ان کے پی ایس منان شاہوانی اور سیکرٹری تعلیم عبدالرف بلوچ کی ملی بھگت سے چور دروازے کے ذریعے سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کا نام استعمال کررہے ہیں حالانکہ ٹیسٹ و انٹرویو اور بھرتیوں کا ٹھیکہ ایک پرائیویٹ کمپنی سی ٹی ایس پی کو دیا گیا ہے جو کہ عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔محکمہ تعلیم میں 9 ہزار آسامیوں پر یونین کونسل کی سطح پر ہونیوالے بھرتیوں کے لئے فی پوسٹ ایک ہزار روپے کا چالان جمع کیاجارہا ہے اور اس مد میں ایک محتاط اندازے کے مطابق80 کروڑ کے قریب روپے کمپنی کے اکانٹ میں چلے جائینگے جبکہ باقی پوسٹوں کی خرید و فروخت اور بندر بانٹ الگ کہانی ہے۔آواران، شیرانی، واشک، جعفر آباد اور موسی خیل جیسے دور دراز اضلاع میں یونین کونسل کی سطح پر سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کس طرح ٹیسٹ و انٹرویو کا انعقاد کریگا اور عملہ و اسٹاف کہاں سے تعینات کریگا اگر کیا بہادر خان ویمن یونیورسٹی کا خواتین اسٹاف تربت، لسبیلہ، ہرنائی، قلات اور گوادر میں محکمہ تعلیم کی یونین کونسلز کی بھرتیوں پر مامور ہونگے تو یونیورسٹی کون چلائے گا۔؟وزیراعلی اور بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ میر عبدالقدوس بزنجو اپنی پریس کانفرنس میں واضح طورپر اعلان کرچکے ہیں کہ تمام محکموں میں ہونیوالی خالی آسامیوں کو بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے ذریعے پر کیاجائیگا اس لئے ایم کیو ایم بلوچستان مطالبہ کرتی ہے کہ وزیر اعلی اپنے اعلان پر عملدرآمد کرتے ہوئے محکمہ تعلیم کی حالیہ 9 ہزار آسامیوں ٹیسٹ و انٹرویوز پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کرائیں۔ایم کیو ایم بلوچستان کے بیروزگار اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کے بہتر مستقبل کی خاطر اگر حکومت نے مذکورہ آسامیاں پبلک سروس کمیشن کو نہیں دی تو وفاقی وزارت تعلیم ہائی ایجوکیشن کمیشن سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی اور سی ٹی ایس پی کے خلاف عدالت میں کیس دائر کرنے پر مجبور ہوگی۔انہوں نے کہاکہ سی ٹی ایس پی کی جانب سے ایڈریس اسلام آباد کا ظاہر کیاجارہاہے،حالانکہ سی ٹی ایس پی (CTSP) کیئریرٹیسٹینگ سروس آف پاکستان کا دفتر تو جناح ٹان کوئٹہ میں واقع ہے اور سی ٹی ایس پی کے مالک ایک پرائیویٹ سکول کے سابق سکول ٹیچرز کا تعلق کوئٹہ کے علاقے نواں کلی سے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں