کوئٹہ (روزنامہ آواز ٹائمز ) کسٹم کے عملے نے 10 کروڑ مالیت کا سامان قبضے میں لے لیا جس میں کپڑا ‘ چھالیہ ‘ ٹائر ‘ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں شامل ہیں تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی حالیہ مہم اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی سخت پالیسی کو مدنظر رکھتے ہوئے چیف کلکٹر کسٹم بلوچستان عبدالقادر میمن ‘ کلکٹر کسٹم انفورسمنٹ عرفان الرحمان خان کی ہدایت پر ایڈیشنل کلکٹر کسٹم عمر شفیق ‘ ڈپٹی کلکٹر عبدالمعید کانجو ‘ ڈپٹی کلکٹر اسد علیم ‘ اسسٹنٹ کلکٹر محمد سلیم کی ترتیب دی گئی فیلڈ انفورسمنٹ یونٹس جس میں لک پاس فیلڈ انفورسمنٹ یونٹ کے انچارج فرید رند ‘ رکھنی کے انچارج محمد رفیق ‘ زیارت کے انچار مسعود جمالی نے دیگر عملے کے ہمراہ سمگلنگ اور اسمنگلروں کے خلاف کارروائیاں کی لک پاس پر ٹرک سے پیراشوٹ کپڑا ‘لیڈیز کپڑا ‘ 2 نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اور زیارت چیک پوسٹ سے ایک مزدا ٹرک سے 125 ٹائر اور رکھنی میں ٹرک سے 4 ہزار کلو چھالیہ جو کہ پیٹیوں میں بند کی گئی تھی جس میں خراب دھنیا لوڈ تھا جس کی آڑ میں سمگلنگ کی کوشش کی جارہی تھی کہ کسٹم کے عملے نے بروقت اطلاع ملنے پر کارروائی کرتے ہوئے سمگلنگ کی کوششوں کو ناکام بنایا قبضہ میں لئے جانے والے سامان اور گاڑیوں کی مالیت 10 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے چیف کلکٹر کسٹم اور کلکٹر کسٹم نے عملے کی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی تاکہ بلوچستان سے سمگلنگ کے خاتمے کو ممکن بناکر قانونی تجارت کے فروغ کو یقینی بنایا جاسکے یہ کارروائیاں آئندہ بھی تواتر کے ساتھ جاری رہیں گی ۔






