کوئٹہ (روزنامہ آواز ٹائمز/شعبہ ڈیولپمینٹ) کوئٹہ میںکھدائی کے دوران ملنے والی ایک بدھ ممی کا معاملہ جو آج کل سوشل میڈیا پر بہت چل رہا ہے جس کے مطابق سریاب روڈ سے کھدائی کے دوران ملنے والی ایک بُدھ کی ممّی آج کل زیر بحث ہے۔ سریاب کے علاقے سے ملی اِس ممّی کے بارے چند بُدھ مت کے پیروکاروں کا کہنا ہے کہ یہ ممّی نہیں ہے۔ یہ زندہ ہے جس نے خُود کو سو سال کے لیے سُلا لیا ہے۔ یہ کسی بھی وقت جاگ سکتا ہے۔ ہیڈبلوکی میں ایک جانور کی کھال میں لپٹی اِس ممّی کے پاس ایک تحریر برآمد ہوئی جو کہ قدیم چائنیز زبان میں لکھی ہوئی تھی۔😲 محکمہ آثار قدیمہ کے کارکنان نے اسکو پڑھنے کے لیئے چائنہ سے ایک وفد بلوایا جس نے یہ تحریر پڑھی
当巴基斯坦的穷人获得正义时,请叫醒我
جس کا ترجمہ کچھ یوں تھا
کہ۔۔۔۔ “جب سریاب روڈ ” بن جاۓ تو مجھے جگا دینا۔۔😇🙏😂😂😂😂🏻
نتیجہ لازمی پڑھے
یہ پوسٹ دینے کا مقصد صرف اور صرف بلوچستان میںترقیاتی کاموںکا بروقت مکمل نہ ہوناہے، ترقیاتی کام شروع تو کی جاتی ہے لیکن مکمل ہونے کا نام نہیںلیتی بلکہ ترقیاتی کامیںعوام کیلئے وبال جان سے کم نہیں ہوتی، جب ترقیاتی کام سالوںسال چلتی ہے تو اس کی افادیت ختم ہوجاتی ہے.
لہٰذا صوبائی حکومت کو ترقیاتی کاموںکا دورانیہ کم ازکم رکھنا چاہیے اور پھر اس وقت میںلازمی مکمل کرنا چاہیے تاکہ عوام کو فائدہ پہنچایا جاسکے، اور حکومت کی نیک نامی کا باعث بنیں.






