کینیڈا (روزنامہ آواز ٹائمز) طارق فتح جو آج 24 اپریل کو کینیڈا میں انتقال کر گیا، موصوف نے کراچی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی پھر کینڈا منتقل ہو گیا اور پچھلے 20 برسوں سے انڈیا میں قیام پزیر تھا۔
مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ یہ مسلمان تھا یا ہندو ?اس کی وجہ یہ ھے کہ اسلام کو برا بھلا کہتے کہتے اس کی پوری زندگی گزر گئی۔
ہندوستان سے ہجرت کرنے والوں کے خلاف کیا کیا بکواس کی وہ نا قابل تحریر ھے۔
ہندوستان کے مسلمانوں کو غدارکہنا اور انہیں قابض بادشاہوں کی اولادیں کہنا اس کا وطیرہ تھا۔
کوئی ایسا موقع نہیں چھوڑتا تھا جہاں اسلام اور ہندوستان کے مسلمانوں کو یہ نا رگڑتا ہو۔
یہ کہتا تھا کہ پہلے تم ہندو تھے بعد میں تم مسلمان ہوئے۔
تصویر میں یہ خود بھگتوں کی چادر پہنا ہوا ھے۔
اللہ تعالی کسی کی عقل نا چھینے کہ نا تو وہ پاکستانی رھے نا مسلمان رھے۔
اپنی زاتی پرخاش کے خاطر ایسے لوگ قوم کو بھی رسوا کرتے ہیں اور دین اسلام کو بھی۔
ب مجھے نہیں معلوم کہ اس کی نماز جنازہ ہو گی یا جکایا جائے گا دونوں صورتوں میں پہلے فرشتوں کو تو جواب دینا ہو گا کہ تو کون ھے ? تیرا رب کون ھے ? تیرا رسول کون ھے۔
انیس شیخ






