سندھ اسمبلی کی منفرد روایت،164نو منتخب اراکین نے 3 زبانوں میں حلف اٹھایا

کراچی : سندھ اسمبلی کی منفرد روایت ،سندھ اسمبلی کے نو منتخب اراکین نے 3 زبانوںسندھی،اردو اور انگریزی میں حلف اٹھایا، نامزد وزیراعلیٰ مراد علی شاہ ،قائم علی شاہ، شرجیل میمن، فریال تالپور سمیت زیادہ ترارکان نے سندھی زبان میں حلف اٹھایا، سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے دیگر نو منتخب ارکان سے حلف لینے سے قبل خود بطور نو منتخب رکن اسمبلی سندھی زبان میں حلف لیا، ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو ،سعید غنی، ناصر حسین شاہ اور ایم کیو ایم کے ارکان کی جانب سے اردو زبان میں حلف لیا گیا جبکہ سردار محمد بخش مہر سمیت چند ارکان نے انگریزی زبان میں حلف لیا۔سندھ اسمبلی کے پہلے اجلاس کی صدارت سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے کی، اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، حلف اٹھانے کے بعد پورا ایوان جئے بھٹو اور بلاول بھٹو زرداری، آصف علی زرداری زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ سندھ اسمبلی کے 168 اراکین نے حلف اٹھا لیا ان میں سے 114 کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے جبکہ 36 اراکین کا تعلق ایم کیو ایم پاکستان سے ہے،حلف اٹھانے والو ںمیں 128 منتخب اور 35 مخصوص نشستوں کے ممبران ہیں۔ سندھ اسمبلی کے 4 ممبران کے معاملات مختلف وجوہات کی بناء پر موخر ہیں۔ سنی اتحاد کونسل کے 9 ارکان نے حلف لیا۔ مخصوص نشستوں پر پیپلز پارٹی کی 20 خواتین اور 6 اقلیتی ارکان نے حلف لیا جبکہ ایم کیو ایم کی 6 خواتین اور اقلیت کے 2 ارکان نے حلف اٹھایا۔ پی ایس129 سے حافظ نعیم کی نشست کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا اور پی ایس 80 سے پیپلز پارٹی کے منتخب رکن عبدالعزیز جونیجو انتقال کر چکے ہیں۔سنی اتحاد کونسل کی 9 نشستوں پر مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ جے یو آئی ، جی ڈی اے کے اراکین نے حلف نہیں اٹھایا ۔ آغا سراج درانی نے بھی بطور رکن سندھ اسمبلی حلف اٹھایا، جس کے بعد سپیکر نے تمام نومنتخب اراکین اسمبلی کو مبارکباد دی اور ان کیلئے نیک خواہشات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ نو منتخب اراکین اسمبلی بہترروایات کو قائم رکھتے ہوئے اسمبلی میں اپنا کردار ادا کریں گے، ہم اپنے ایجنڈے پر عمل پیرا ہوں گے، احتجاج کرنے والوں کو اگر کوئی مسئلہ ہے تو وہ الیکشن کمیشن جائیں، سندھ کے عوام احتجاج کرنے والوں کو مسترد کر چکے ہیں۔سندھ اسمبلی کے پہلے اجلاس سے جی ڈی اے، پی ٹی آئی، جماعت اسلامی اور جے یو آئی کے اراکین اسمبلی نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور حلف اٹھانے ایوان میں نہیں آئے۔ اجلاس کے آغاز میں گفتگو کرتے ہوئے آغا سراج درانی نے کہا ہے کہ میں بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو کا شکر گزار ہوں، فریال تالپور نے ایک کردار ادا کیا ہے مبارک دیتا ہوں، تمام نئے اور سابق اراکین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں، پاکستان نہیں تو ہم نہیں، سندھ اسمبلی کے خلاف دھرنا دیا جارہا ہے، سندھ اسمبلی نے پاکستان بنایا ہے، اس کی توہین نہیں کرنے دیں گے، آپ کو تکلیف ہے تو آپ عدالتوں میں جائیں،روایات کے مطابق ایوان 5 سال چلے گا، ایجنڈے پر مکمل عمل درآمد کی کوشش کریں گے، ایوان میں بیٹھے اپوزیشن ارکان کا خیر مقدم کرتا ہوں، نئے نئے چہرے دیکھ رہا ہوں، ایک دو پرانے نظر آ رہے ہیں۔پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ ہم مل کر کام کریں گے، سندھ اور پاکستان کے لیے کام کرنا ہے،اس ایوان کی توہین نہیں کرنے دیں گے، پورا سندھ ہمارے ساتھ ہے، اگر آپ کو مسترد کیا گیا ہے تو ٹھیک ہے آپ ٹرائی کرتے رہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں