پختون سرزمین پر غلامی کی زندگی گزارنا قبول نہیں، سینیٹر ایمل ولی خان

پشاور:پختون سرزمین پر غلامی کی زندگی گزارنا قبول نہیںیہ ہمیں باچا خان نے سکھایا ہے کہ ہم پختون سرزمین پر کسی کے غلام نہیںچاہتے وعدہ ہے کہ ہرقدم اپنی قوم کی بنیادی آزادی کو یقینی بنانے کیلئے اٹھائیں گے ان خیالات کا اظہارانٹرا پارٹی انتخابات، عوامی نیشنل پارٹی کے مرکز کونسل کے اجلاس میںسینیٹر ایمل ولی خان متفقہ طور پر عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر منتخب ہونے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ یہ ہمیں باچا خان نے سکھایا ہے کہ ہم پختون سرزمین پر کسی کے غلام نہیںہے پختونوں کو غلامی کے جس نہج پر پہنچایا گیا ہے وہ سب کو معلوم ہے وعدہ ہے کہ ہرقدم اپنی قوم کی بنیادی آزادی کو یقینی بنانے کیلئے اٹھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ تمام اداروں کو اپنے آئینی دائرہ اختیار میں رہ کر کام کرنا ہوگا تمام ادارے آئینی دائرہ اختیار میں رہ کر کام کریں گے تو پاکستان آگے بڑھے گادفاعی ادارے ہوں، عدلیہ ہو یا پارلیمان جو بھی آئین سے تجاوز کرے گا پاکستان کیلئے مشکل ہوگی پچھلے ستر سال سے پاکستان کا ایک ادارہ نہ آئین کو مانتا ہے اور نا اپنے اختیار کوہمیں معلوم ہے کہ ان لوگوں کیلئے آئین ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے ان کا جب دل چاہے اس کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر اپنی بادشاہت شروع کردیتے ہیںانہوں نے کہا کہ ہم نے جو نعرہ پشاور، صوابی، سوات اور چارسدہ میں لگایا تھا وہ پوری قوم کی آواز ہے اب دفاعی اداروں کو دفاع کو ترجیح دینی ہوگی اور بارڈر اور بیرک جانا ہوگا رہبرک تحریک اسفندیار ولی خان نے جو کارنامے قوم کیلئے کئے ہیں وہ سب کے سامنے ہیںباچا خان، ولی خان اور انکے ساتھیوں کے خوابوں کو اسفندیار ولی خان نے تعبیر سے روشناس کیاانہوں نے کہا کہ پختونخوا کو پختونخوا بنانا عوامی نیشنل پارٹی کیلئے ایک بڑا چیلنج تھااپنی شناخت یقینی بنانے کیلئے ہمیں دہائیاں لگیں اور ہزاروں مشکلات کا سامنا کیا انہوں نے خپلہ خاورہ خپل اختیار کے نعرے کو عملی جامہ پہنایا اٹھارویں آئینی ترمیم کا حصہ ہے لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہورہااٹھارہویں آئینی ترمیم پختونوں اور تمام چھوٹی قومیتوں کیلئے زندگی کی بنیاد ہے آج اٹھارہویں آئینی ترمیم خطرات سے دوچار ہے اور اس پر حملے ہورہے ہیںانہوںنے کہا کہ رہبرتحریک اسفندیار ولی خان کی جیت اٹھارہویں آئینی ترمیم کی سر کے بدلے حفاظت کریں گے مرکزی کونسل کے اجلاس کے بعدکابینہ اور مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوگا اجلاسوں میں موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم فیصلے ہوں گے بطور مرکزی صدر پہلا دورہ بلوچستان کا کروں گا اے این پی نے سوسالہ تاریخ میں اپنی قوم کے حقوق کیلئے جانوں کے نذرانے پیش کئے ہمارے اکابرین نے سختیاں برداشت کیں لیکن اپنے موقف سے نہیں ہٹے اپنے کرداراور گفتار سے قومی تحریک کے قائدین کی کمی اپنی قوم کو محسوس نہیں ہونے دوں گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں