کوئٹہ(آوازٹائمز/ انعام اللہ اچکزئی)بلوچستان میں گزشتہ چند ماہ کے دوران امن و امان کی صورتحال تشویشناک حد تک بگڑ گئی ہے اور دہشت گردوں نے حملوں کی تعداد اور شدت میں واضح اضافہ کر دیا ہے۔گزشتہ روز صوبے کے مختلف علاقوں میں تین دھماکے رپورٹ ہوئے۔ ضلع کچھی کے مچھ ٹان میں ہونے والے دھماکے میں ایک شخص زخمی ہوا جبکہ ضلع مستونگ کے میجر چوک میں دو دھماکوں کے بعد مسلح افراد اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔اسی ہفتے بولان پاس سے گزرنے والی جعفر ایکسپریس ایک اور مسلح حملے سے محفوظ رہی، یہ واقعہ ڈیڑھ ماہ کے دوران ٹرین پر ہونے والا چھٹا حملہ تھا جس نے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔قبل ازیں 30 ستمبر کو کوئٹہ میں ایف سی ہیڈ کوارٹر کے قریب ایک گلی میں بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد جاں بحق اور 33 زخمی ہوئے تھے، جسے حالیہ عرصے کے بڑے حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر ملک کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاہم فورسز پوری بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں






