عدالتوں میں سکیورٹی ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد ضروری ہے، چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ

کوئٹہ(ڈیلی آواز ٹائمز/نیوز ڈیسک) چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس کامران ملاخیل نے کہا ہے کہ انصاف کی فراہمی ہی کافی نہیں بلکہ اسے عام شہری کے لیے قابلِ رسائی اور قابلِ فہم بنانا بھی ضروری ہے، عدالتوں میں سکیورٹی ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرتے ہوئے سائلین، وکلا، ججز اور عدالتی عملے کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ہوگا۔
یہ بات انہوں نے بلوچستان ہائیکورٹ میں قائم سہولت مرکز کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سہولت مرکز کا قیام چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی رہنمائی اور تعاون کا نتیجہ ہے۔
جسٹس کامران ملاخیل نے کہا کہ بلوچستان ہائیکورٹ میں سائلین، خصوصاً خواتین کو سہولیات کی کمی کا سامنا تھا، جس کے پیش نظر سہولت مرکز قائم کیا گیا، جسے صرف چھ ماہ کی مختصر مدت میں مکمل کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سہولت مرکز میں معلوماتی ڈیسک، بائیومیٹرک سہولت، واش رومز، پینے کے پانی سمیت دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جبکہ سائلین کے لیے ایئر کنڈیشنڈ انتظار گاہ بھی قائم کی گئی ہے۔ غریب اور کم تعلیم یافتہ سائلین کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ون ونڈو سہولت فراہم کی گئی ہے تاکہ انہیں مختلف دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔
چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ نے کہا کہ سائلین کیوسک مشینوں کے ذریعے اپنے مقدمات کی تاریخ اور متعلقہ بینچ سے متعلق معلومات باآسانی حاصل کرسکیں گے، جس سے عدالتی امور میں شفافیت اور شہریوں کو بروقت معلومات کی فراہمی میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان ہائیکورٹ میں ججز اور وکلا کی استعداد اور قابلیت میں کوئی کمی نہیں، بہتر نظام اور جدید سہولیات کی فراہمی کے ذریعے سائلین کو مزید مؤثر اور بروقت انصاف فراہم کیا جاسکتا ہے۔
جسٹس کامران ملاخیل نے عدالتوں میں سکیورٹی ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عدالتوں کے اندر محفوظ ماحول کے ساتھ ساتھ باہر بھی سکیورٹی یقینی بنانا ہوگی، تاکہ سائلین، وکلا، ججز اور عدالتی عملے کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں