آئی ایم ایف سے 1.1 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کے اکائونٹ میں منتقل

واشنگٹن:آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 828ملین ایس ڈی آر کی رقم رمنظور کر لی۔آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت دوسرا جائزہ مکمل کرلیا ۔اور پاکستان کے لیے 828 ملین ایس ڈی آر کی رقم منظور کرلی۔اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف سے اپنے اکاؤنٹ میں 828 ملین ایس ڈی آریا تقریباً 1.1 ارب ڈالرموصول ہوگئے۔3 مئی 2024ء کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک کے زر مبادلہ ذخائر میں یہ رقم ظاہر ہوگی۔ورڈ نے پاکستان کیلئے 1.1 ارب ڈالرقسط جاری کرنے کی منظوری دیدی ہے جس کے بعد معاہدے کے مطابق پاکستان کو فراہم کردہ معاونت کاحجم 3 ارب ڈالرہوجائیگا۔ملکی زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر تقریباً 8 ارب ڈالر تک بڑھ گئے ہیں، جو کہ پروگرام کے آغاز میں 4.5 بلین ڈالر تھے۔ آئی ایم ایف کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹرانتونیٹ سائیح نے کہاہے کہ اسٹینڈ بائی معاہدہ کے تحت پاکستان کی پرعزم پالیسی کوششوں سے معاشی استحکام اورمعاشی بحالی میں پیش رفت ہوئی ہے۔ ملک میں بیرونی کھاتوں کے دباؤ میں کمی آئی ہے۔ مہنگائی میں بتدریج کمی آرہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ آنے والے اہم چیلنجوں کے پیش نظر پاکستان کو مضبوط، جامع اور پائیدار نمو پیدا کے لیے مضبوط معاشی پالیسیوں اور ساختی اصلاحات کے ساتھ، مشکل سے حاصل کیے گئے استحکام سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ وفاقی اور صوبائی دونوں سطح پر محصولات میں اضافہ کی مسلسل کوششیں اور اخراجات کا نظم و ضبط اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہے کہ سرپلس کا بنیادی ہدف حاصل کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان نے بروقت ٹیرف ایڈجسٹمنٹ اور وصولی کی کوششوں میں اضافہ کے ذریعے پروگرام کے دوران توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے کو مستحکم کیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق مضبوط، طویل مدتی جامع ترقی کے حصول اور ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات میں تیزی لانے اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے معاشی طورپر کمزورطبقات کے مسلسل تحفظ کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں