انتشاری ٹولے سے کوئی بات نہیں ہوگی ،پاک فوج

راولپنڈی ( آن لائن )پاک فوج نے کہا ہے کہ سانحہ9مئی صرف افواج پاکستان نہیں پورے پاکستان کے عوام کا مقدمہ ہے ،پاکستان جزا و سزا کے نظام پر یقین رکھتا ہے ،اتحاد ہماری قوت ہے اور انشاء اللہ ہم سب متحد ہیں، 9 مئی کو کرنے والے اور کروانے والوں کو آئین کے مطابق سزا دینا پڑے گی،ملک ایک اور 9مئی کا متحمل نہیں ہوسکتا ، پی ٹی آئی سے کوئی ڈیل نہیں ہوئی نہ ہوگی ،انتشاری ٹولہ قوم کے سامنے سچے دل سے معافی مانگے اور ملک کی تعمیری سیاست میں شامل ہو تو معافی مل سکتی ہے ،سب کچھ واضح ہونے کے باوجود جوڈیشل کمیشن کا قیام سمجھ سے بالاتر ہے مگر اب اس کی تہہ تک جانا ناگزیر ہوگیا ہے ، ان خیالات کا اظہار مسلح افواج کے ترجمان میجر جنرل احمد شریف نے راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ترجمان نے کہا کہ خطے میں دہشتگردی کے خلاف سب سے اہم کردار پاکستان کا رہا ہے، پاکستان دہشتگردی کے نیٹ ورک کو ختم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا،حملوں میں ملوث دہشتگرد افغان شہری ہیں، دہشتگردوں کو کٹہرے میں لانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں، افواج پاکستان میں تمام مکاتب فکر اور رنگ و نسل کے لوگ موجود ہیں ،،ہر حکومت وقت کے آرمی کا فوج کا ایک غیرسیاسی مگر آئینی اور قانونی تعلق ہوتا ہے،سوشل میڈیا اور میڈیا میں اداروں پر کچھ مخصوص سیاسی حلقے ایسے ہیں جو تواتر کے ساتھ فوج اور دیگر اداروں پر الزام لگاتے رہتے ہیں، ثبوت مانگے جائیں تو مزید الزام تراشی شروع کردی جاتی ہے ،اگر آئین کی بات کرتے ہیں تو آرٹیکل 19 بلاشبہ آزادی اظہار رائے کا تحفظ یقینی بناتا ہے مگر اس کی آڑ میں چھپ کر ملک کی سلامتی کو دائو پر لگانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ،افواج پاکستان کی اولین ترجیح ملک میں امن و امان قائم کرنا ہے، اور اس کے لیے ہم دہشت گردوں، ان کے سر پرستوں اور سہولت کاروں کی سرکوبی کے لیے ہر ممکن حد تک جائیں گے، بھارت نے رواں سال بھی متعدد مرتبہ سیز فائر کی خلاف ورزی کی گئی، آزاد کشمیر میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے، آزاد کشمیر اور فلسطین کے عوام کی اخلاقی سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گئے،8فروری کے انتخابات میں پاک کا کردار صرف دیگر اداروں کے ساتھ مل کر امن وامان کی فضا کو برقرار رکھنا تھا تاکہ پرامن طریقے سے انتخابات کا عمل مکمل کیا جاسکے اس حوالے سے پروپیگنڈے بے بنیاد ہے ،پاکستان نے کسی ملک کو اپنے اڈے نہیں دیئے نہ کوئی ارادہ ہے ۔ ترجمان افواج پاکستان کا کہنا تھا کہ آج کی پریس کانفرنس کا مقصد نیشنل سیکیورٹی صورتحال ، خطے کی صورتحال ، داخلی سلامتی اور دہشتگری کے خلاف کئے جانے والے اقدامات کا جائزہ لینا ہے پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف طویل جنگ لڑی اور اب بھی دہشت گردی کیخلاف نبرد آزما ہیں اس میں ہمارے نوجوان ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور شہریوں نے قربانیاں دیں ۔ سب جانتے ہیں کہ خطے میں امن کیلئے پاکستان کا کردار ہمیشہ کلیدی رہا ہے بات اگر افغانستان کی جائے تو پاکستان طویل عرصے سے افغان مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے اور دنیا جانتی ہے اور مانتی ہے کہ جتنی مہمان نوازی پاکستان نے کی اتنی کسی ملک نے نہیں کی اس کے برعکس ٹی ٹی پی کے دہشت گرد افغان سرزمین استعمال کرکے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کارروائیاں کرتے ہیں ثبوت دینے کے باوجود اس کا تدارک نہیں کیاگیا حالیہ دہشتگردی کی لہر کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جو دوحا میں معاہدہ ہوا تھا اس میں طے پایا تھا کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کیخلاف دہشتگردی کے لئے استعمال نہیں ہوگی مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہوا اور مسلسل دہشتگرد افغان سرزمین استعمال کرکے نہ صرف ہمارے ملک بلکہ دیگر دیگر ملکوں میں بھی اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں دفتر خارجہ اور آرمی چیف کی بار ہا کوششوں کے باوجود افغان حکومت اس پر عملدرآمد نہیں کررہی اور نہ ان دہشت گردوں کو روک رہی ہے مگر ہم کہنا چاہتے ہیں کہ افواج پاکستان دہشت گردی کا ناسور جڑ سے اکھاڑنے کیلئے پرعزم ہے ۔ترجمان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کی واپسی کا فیصلہ ملکی سلامتی کیلئے کیا ان کی وطن واپسی کا فیصلہ وسیع تر مفاد کو دیکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے کیا دنیا میں کسی بھی ملک میں غیرقانونی تارکین وطن کو وہاں رہنے کی جگہ نہیں ہوتی خیبرپختونخوا میں بھی دہشت گرد امن وامان خراب کرنے کی کوشش کررہی ہیں مچھ جیل حملہ بھی اس کی کڑی تھی جس میں ہماری مسلح افواج نے قربانیاں دیتے ہوئے دشمن کے عزائم خاک میں ملائے اور متعدد دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا ۔پاکستان نے جواب میں افغانستان میں دہشت گردو کی محفوظ پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا جس میں آٹھ دہشت گرد ہلاک ہوئے ۔ایک اور مثال 20مارچ 2024ء میں گوادر پورٹ پر دہشت گردوں کا حملہ جس میں پاک فوج کے جوانوں نے ناکام بنایا ایک اور واقعہ خیبرپختونخوا کے علاقے بشام میں ہوا جہاں چینی انجینئرز کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس میں پانچ چینی باشندے اور ایک پاکستانی شہری جاںبحق ہوئے اس کے تانے بانے بھی افغانستان سے جلا ملا اور خود کش بمبار بھی افغان شہری تھا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں