بلوچستان میں امن و امان کی ناکامی پر حکومت مستعفی ہو، پشتونخوامیپ کا مطالبہ

کان مہترزئی(ڈیلی آوازٹائمز)پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے زیر اہتمام ضلع قلعہ سیف اللہ کے علاقے کان مہترزئی میں شمولیتی اجتماع منعقد ہوا، جس کی صدارت پارٹی کے مرکزی ڈپٹی چیئرمین عبدالرف لالا نے کی۔ اجتماع کے دوران درجنوں افراد نے پشتونخوامیپ میں شمولیت کا اعلان کیا۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پشتونخوامیپ کے مرکزی ڈپٹی چیئرمین عبدالرف لالا، مرکزی سیکرٹری پشتون اولسی قومی جرگہ کے کنوینئر نواب ایاز خان جوگیزئی، مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال، ضلعی صدر دارا خان جوگیزئی اور دیگر رہنماں نے کہا کہ ملک بالخصوص پشتونخوا وطن کی صورتحال دن بدن تشویشناک ہوتی جا رہی ہے، جو حکمرانوں کی عوام دشمن اور غیر جمہوری پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔رہنماں نے کہا کہ ملک سیاسی عدم استحکام، مایوسی اور عدم تحفظ کا شکار ہے، صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ججز کو بھی دن دہاڑے قتل کیا جا رہا ہے جبکہ عام شہری، تاجر، ملازمین، مزدور اور مسافر محفوظ نہیں۔انہوں نے سیشن کورٹ کے جج عبدالحکیم کاکڑ کے قتل کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کو صوبے میں امن و امان کی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے مستعفی ہونا چاہیے۔پشتونخوامیپ رہنماں نے کہا کہ بدامنی، دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، چوری اور ڈکیتی کے واقعات نے عوامی زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔ کوئٹہ کراچی، کوئٹہ چمن اور کوئٹہ ژوب سمیت اہم شاہراہیں غیر محفوظ ہوچکی ہیں، جہاں آئے روز حملوں کے باعث تجارتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہنہ اوڑک اور زیارت کے مانگی میں پیش آنے والے واقعات نے ریاستی نظام اور امن و امان کے دعوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے تحفظ، امن کی بحالی اور بدامنی کے خاتمے کے لیے سیاسی و جمہوری قوتوں کو مل کر مثر حکمت عملی تشکیل دینا ہوگی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں