ننکانہ صاحب/سکھر(روزنامہ آواز ٹائمز) دریائے سندھ میں سکھر اورگڈوبیراج پر نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران گڈو بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب آنے کا امکان ہے۔ سکھربیراج سے نکلنے والی سات میں سے چھ کینال بند کرکے پانی اخراج والے بیراج کے تمام دروازے کھول دیئے گئے ہیں۔جبکہ گڈو بیراج سے نکلنے والی تمام چاروں کینالوں کو بند کردیا گیا۔ دریائے سندھ میں سیلابی صورتحال کے باعث کچے کا چالیس فیصد علاقہ زیرِآب آگیا ہے۔ لوگوں نے محفوظ مقامات کی طرف منتقلی شروع کر دی ہے۔ دریائے سندھ میں کوٹ مٹھن کے مقام پرپانی کی سطح بلند ہونے لگی۔کوہ سلیمان کے ندی نالوں میں بھی طغیانی آگئی۔علاقہ مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی شروع کردی۔ بینظیربرج کے مقام پرتین لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلہ گزر رہا ہے۔درہ کاہ سلطان سے سترہ ہزارکیوسک کا رود کوہی ریلا آبادیوں کی جانب بڑھنے لگا۔انتظامیہ نے صورتحال کے پیش نظرریلیف کیمپ قائم کردئیے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اگرانتظامیہ نے بروقت انتظامات نہ کئے تودو ہزاربائیس جیسی سنگین صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ ننکانہ صاحب میں ہیڈ بلوکی کے مقام پرسیلابی پانی نے تباہی مچانا شروع کر دی،معمولات زندگی بری طرح مفلوج،کئی کچے مکانات حویلیاں باڑے گرگئے،زمینی رابطہ بھی منقطع ہو گیا۔صورتحال کے پیش نظرپی ڈی ایم اے نے ننکانہ کی ضلعی انتظامیہ کوالرٹ جاری کردیا۔ کوٹ ادومیں ہیڈ تونسہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ محکمہ انہار کے مطابق ہیڈ تونسہ بیراج پر پانی کی آمد 387587کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ دریا میں پانی کی سطح کے اضافے کے ساتھ قریبی علاقوں سے لوگوں کی نقل مکانی شروع کردی۔ پاکپتن کے مقام پردریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ 84 ہزارکیوسک سے تجاوزکرگیا۔ نکل مکانی کیلئے سیلاب متاثرین نے انوکھی کشتیاں ایجاد کرلیں۔ متاثرین پلاسٹک کے ڈرموں کو بطورکشتیاں استعمال کرنے لگے۔ بھاری قیمتی سامان کی بھی ڈرم کشتیوں کے ذریعے منتقلی جاری ہے۔






