دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو تسلیم نہیں کیا گیا، وفاقی وزیر دفاع

اسلام آباد(روزنامہ آواز ٹائمز)وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ کشمیر میں بدترین ریاستی دہشت گردی اور مذہبی جنونیت کا شکار بیمار ذہنیت کی حامل بھارتی قیادت پاکستان پر الزام تراشی کر رہی ہے، پاکستان نائن الیون کے بعد امریکہ کا حلیف بننے کی وجہ سے دہشت گردی کا شکار ہوا اور آج بھی اس کی قیمت چکا رہا ہے تاہم اس جنگ میں پاکستان کے کردار کو تسلیم نہیں کیا گیا، ہمیں اپنی جغرافیائی حیثیت کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کرنا ہو گا۔جمعہ کو قومی اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم امریکی صدر جوبائیڈن کی دعوت پر امریکہ میں ہیں، وہاں پر انہوں نے ایک مرتبہ پھر بھارت کا روایتی رویہ اپناتے ہوئے پاکستان کو دہشت گرد قرار دیا، مودی جب گجرات کے وزیراعلی تھے تو ان کی سرپرستی میں وہاں کے مسلمانوں کو زندہ جلایا گیا، خواتین کی عصمت دری کی گئی، جس پر اس وقت امریکہ نے ان پر ویزہ کی پابندیاں عائد کی تھیں، آج ایک مرتبہ پھر بھارت میں وہی سلسلہ جاری ہے، وہاں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتیں مودی کی دہشت گردی کا ہدف بنی ہوئی ہیں، دہلی کی سرپرستی میں ان پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں، کشمیر میں کئی سالوں سے غیر اعلانیہ کرفیو نافذ ہے، وہاں کی قیادت کئی دہائیوں سے قید میں ہے، مودی اور ان کے انتہا پسند مذہبی جنونیوں کی بدترین ریاستی دہشت گردی جاری ہے، یہ بیمار ذہنیت میں مبتلا ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 40 سال میں دو افغان جنگوں میں امریکہ کا ساتھ دیا اور اس میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا، یہ ایک ایسی جنگ تھی جو ہماری نہیں تھی، ہم نے خود دہشت گردی کو دعوت دی، امریکہ کئی سمندر پار ہونے کی وجہ سے مکمل محفوظ ہے، ان کے لئے جنگیں کمرشل سرمایہ کاری کے مترادف ہیں، آج بھی یورپ میں ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ نائن الیون کے بعد ہم اس کے اتحادی بنے، آج پاکستان کو جس دہشت گردی کا سامنا ہے، یہ اسی جنگ کا شاخسانہ ہے جو ہماری تھی ہی نہیں، آج بھی پاکستانی قوم امریکہ کی حلیف ہونے کی قیمت ادا کر رہی ہے جبکہ اس کردار کو تسلیم نہیں کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں