پشاور(روزنامہ آواز ٹائمز)صدر مملکت عارف علوی نے ملک کی پسماندہ آبادی کو تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن کے شعبوں پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ خیبر گرلز میڈیکل کالج میں ہیلتھ ریسرچ 2023 پر بین الاقوامی کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ ملک کی صرف چار سے پانچ فیصد آبادی اعلی تعلیم سے آراستہ ہے جبکہ عام آدمی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک کی 250 ملین آبادی میں سے 27 ملین بچے اسکولوں سے باہر ہیں جبکہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنے اپنے علاقوں میں صحت کی معیاری خدمات تک رسائی نہیں ہے۔صدر نے پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ جلد اور بروقت فیصلے کریں جبکہ اسٹیک ہولڈرز، مخیر حضرات، رضاکاروں اور علمائے کرام پر زور دیا کہ وہ جدید دور کے چیلنجز کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور بچوں کی تعلیم کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ حکومت 27 ملین سکولوں سے باہر بچوں کے لیے وسائل کی کمی کی وجہ سیسکول قائم نہیں کر سکتی اور نہ ہی سب کو صحت کی سہولیات فراہم کر سکتی ہے اور اس طرح عوام کی خدمت کی ذمہ داری سول سوسائٹی کے کندھوں پر آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں بہتری آئے گی، انہوں نے مزید کہا کہ اساتذہ، ڈاکٹروں، طلبا، علمائے کرام اور ہر فرد کو ملک کی تعمیر میں کردار ادا کرنا ہوگا۔اس وقت ملک کو ڈاکٹروں اور نرسوں کی ضرورت ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں نو لاکھ نرسوں کی ضرورت ہے جبکہ اس وقت دو لاکھ تربیت یافتہ نرسیں فیلڈ میں کام کر رہی ہیں۔انہوں نے صحت کی تحقیق پر پہلی بین الاقوامی کانفرنس کے منتظمین کو سراہتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی ماہرین کے ساتھ مل کر صحت کے شعبے میں نئی تحقیق وقت کی اہم ضرورت ہے۔






