پشاور،کوئٹہ(آوازٹائمز)تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان کے سربراہ اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے پشاور میں بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی موجودہ سنگین سیاسی، معاشی اور سماجی صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان آج متعدد بحرانوں میں مبتلا ہے، جنہیں حل کرنے کے لیے قومی سطح پر سنجیدہ اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے ہم پاگل نہیں ہیں، ہمیں پوری سمجھ ہے کہ یہ بحران بڑے ہیں اور ہم چھوٹے لوگ ہے کہ پاکستان کو بچانے اور ملک میں امن و استحکام قائم کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ فوری طور پر ایک قومی کانفرنس بلائی جائے جس میں تمام فریقین شریک ہوں، بشمول جرنیل، ججز، علمائے کرام، مختلف مکاتب فکر کے نمائندے، سیاسی کارکن اور عوامی نمائندے، تاکہ اختلافات کو ختم کیا جا سکے اور اجتماعی دانش کے ذریعے ایک نئے پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکے یہ کانفرنس دو سے تین دن تک جاری رہنی چاہیے تاکہ ملک کے موجودہ مسائل پر جامع بحث اور مشاورت کی جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جھگڑے، گالیاں اور ذاتی تنازعات ملک کے مفاد میں رکاوٹ ہیں، اور ان پر توجہ دینا وقت کا ضیاع ہے۔ لوگ گالیاں بھی دیتے ہیں مگر ہمیں پرواہ نہیں، ہم جھگڑا نہیں چاہتے، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کو بچانے کے لیے سب ایک پلیٹ فارم پر آئیں موجودہ سیاسی اور معاشی بحران نے عوام کو ذہنی، سماجی اور اقتصادی طور پر دبا دیا ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سیاسی، سماجی اور مذہبی رہنما مل کر ملک کو بحران سے نکالیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی وحدت، اختلافات کا خاتمہ اور اجتماعی دانش ہی ملک کو مضبوط اور مستحکم کر سکتی ہے ذاتی اور سیاسی اختلافات سے اوپر اٹھ کر قومی مفاد کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور نوجوان نسل کو بھی اس عمل میں شامل کیا جائے تاکہ پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کو ایک ایسا ملک بنانا ہوگا جہاں ہر شہری کی زندگی محفوظ ہو، کسی پر ظلم و جبر نہ ہو، فرقہ واریت، نفرت اور جھگڑے ختم ہوں اور آئین کی بالادستی عملی طور پر قائم ہوآج ملک بحرانوں میں گھرا ہوا ہے اور سیاسی عمل درست نہیں چل رہا۔ ملک کی سالمیت، جمہوری اصولوں اور آئین کی بالادستی کے لیے ضروری ہے کہ تمام سیاسی قوتیں، عدلیہ، علما، اور مختلف مکاتب فکر کے نمائندے مل کر بیٹھیں اور پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کریں ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں کوئی انسان دوسرے پر ظلم نہ کرے، کسی فرقے کا دوسرے سے جھگڑا نہ ہو، آئین بالادست ہو اور منتخب پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوآج بھی خیبر پختونخوا میں طاقت کا بڑا حصہ غیر آئینی یا جبر کی قوتوں کے ہاتھ میں نہیں بلکہ عوام کی نمائندہ حکومت کے پاس ہے، اور عوامی طاقت ہی ملک کو ترقی اور استحکام کی راہ پر ڈال سکتی ہے۔اگر خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو پورے ملک میں دمادم مست قلندر ہوگا اور عوام کسی جبر کو برداشت نہیں کریں گے جبر کی قوتیں عوام کی حمایت سے محروم ہیں اور کسی بھی آئینی عمل کی مخالفت کامیاب نہیں ہو سکتی انہوں نے عوام کو یقین دہانی کرائی کہ تحریک تحفظِ آئینِ پاکستان اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی آئینی نظام، جمہوری بالادستی، عوامی حقوق اور صوبائی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گی






