لاہور :سپیکرپنجاب اسمبلی سبطین خان کی زیرصدارت ہونے والے پنجاب اسمبلی کے پہلے اجلاس کے پہلے روز نومنتخب اراکین پنجاب اسمبلی نے اپنی رکنیت کا باقاعدہ حلف اٹھا لیا۔ اجلاس میں مجموعی طور پر 310 اراکین اسمبلی نے شرکت کی جن میں 215 ارکان کا تعلق پی ایم ایل این اور پی پی پی سمیت دیگر اتحادی جماعتوں سے تھا جبکہ سنی اتحاد کونسل کے 95 اراکین نے بھی اپنی رکنیت کا حلف اٹھایا۔ اراکین پنجاب اسمبلی کی جانب سے حلف اٹھانے کے بعد سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے حلف اٹھانے والے ارکان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ارکان اسمبلی پنجاب کے عوام کے اعتماد پر پورا اتریں گے اور وہ اپنی منزل میں کامیاب و کامران ہوں گے، اللہ تعالیٰ آپ کو بات سننے اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا حوصلہ عطا فرمائے۔ بعدازاں اپنی رکنیت اسمبلی کا حلف اٹھانے والے ارکان اسمبلی نے حلف کے رجسٹر پر باری باری دستخط کئے۔ حلف برداری کی تقریب سے قبل پنجاب اسمبلی کا پہلا اجلاس حسب روایت اپنے مقررہ وقت سے 2گھنٹے 19منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا جبکہ اجلاس کے انعقاد کا مقررہ وقت جمعہ کی صبح 10بجے تھا اجلاس کی کارروائی کے آغاز سے قبل پنجاب کی نامزد وزیراعلیٰ مریم نواز ایوان میں پہنچ چکی تھیں جو ایوان میں ارکان اسمبلی کو ہاتھ لہرا کر اپنی موجودگی کا احساس دلاتی رہیں۔ بتایا گیا ہے کہ سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان کی ایوان میں تاخیر سے آمد کے باعث پنجاب اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے سے زائد وقت کی تاخیر سے شروع ہوا۔ تلاوت کلام پاک اور نعت خوانی کے بعد اجلاس کی باقاعدہ کارروائی شروع کی گئی تو اجلاس دونوں بینچوں کے ارکان کے شور شرابے کی وجہ سے مچھلی منڈی بن گیا۔ رکنیت کا حلف اٹھائے بغیر ہی ایوان میں موجود سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے شکایات کے انبھار لگا دیئے۔ ان کا موقف تھا کہ پنجاب اسمبلی کی عمارت کے باہر موجود ان کے مہمانوں کو اندر آنے سے روکا جا رہا ہے۔ ان کی یہ بھی شکایت تھی کہ جب تک سنی اتحاد کونسل کے گرفتار ارکان ایوان میں نہیں پہنچ جاتے تب تک وہ اپنی رکنیت کا حلف نہیں اٹھائیں گے۔ بعض ارکان نے سپیکر سے انہیں کمرے آلاٹ نہ کئے جانے کی بھی شکایت کی جس پر سپیکر نے پی ایم ایل این کے سپیکر کے نامزد امیدوار محمد احمد خان اور سنی اتحاد کونسل کے ارکان سے مشاورت کے بعد پنجاب اسمبلی کی مہمان گیلری میں موجود پی ایم ایل این کے مہمانوں کو نکالنے اور سنی اتحاد کے گرفتار اراکین اسمبلی کی ایوان میں عدم موجودگی کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سنی اتحاد کونسل کے ارکان کو پروڈکیشن آڈر جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ دوران اجلاس پی ایم ایل این کے سپیکر کے نامزد امیدوار ملک احمد خان نے سپیکر سبطین خان کو باور کروایا کہ حلف برداری سے قبل آپ ارکان اسمبلی کا کوئی پوائنٹ آف آرڈر نہیں لے سکتے، بہتر ہے کہ پہلے ارکان اسمبلی سے حلف لے لیا جائے جسے سپیکر اسمبلی نے تسلیم کرتے ہوئے نماز جمعہ کے بعد ارکان اسمبلی سے حلف لینے کا اعلان کیا اور اجلاس کی کارروائی بعد نماز جمعہ دوپہر پونے دو بجے تک کے لئے موخر کر دی۔ قبل ازیں ارکان پنجاب اسمبلی کے شور شرابے پر سپیکر سبطین خان نے ریمارکس دیئے کہ آج اجلاس کا پہلا دن ہے ایوان کا ماحول ٹھیک رہنے دیں، پانچ سال آپ نے یہی کام کرنا ہے۔ سپیکر اسمبلی نے ایوان میں موجود سنی اتحاد کونسل کے ارکان کو یقین دلایا کہ وہ بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے دیگر جماعتوں کے ارکان ہیں۔ نماز جمعہ ختم ہونے کے بعد اجلاس کی کارروائی کا دوبارہ آغاز کیا گیا۔ سپیکر نے نومنتخب اراکین اسمبلی سے حلف لیا اور اجلاس کی کارروائی …… تک کے لئے ملتوی کر دی۔






