راولپنڈی : اسلام آباد کی خصوصی احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے 190 ملین پاؤنڈ کے مالیاتی سکینڈل ریفرنس میں تحریک انصاف کے سابق چیئرمین اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کردی ہے جبکہ ملزمان نے فرد جرم کی صحت سے انکار کرتے ہوئے الزامات کو مسترد کردیا جس پر عدالت نے ریفرنس کے باقاعدہ ٹرائل کے لئے نیب کے 5 گواہان کو 6 مارچ کو طلب کرلیا ہے گزشتہ روز سماعت کے موقع پر دونوں ملزمان، ان کے وکلا سلیمان صفدر، ظہیر عباس چوہدری اور عثمان گل کے علاوہ نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل بھی عدالت میں موجود تھے عدالت نے ملزمان کو فرد جرم پڑھ کر سنائی عدالت نے ملزمان سے استفسار کیا کہ اپ پر فرد جرم عائد کی جا رہی ہے ہے آپ بتائیں کہ آپ اس کیس میں ملوث ہیں کہ نہیں جس پر سابق چیئرمین نے جواب دیا کہ میں نے فرد جرم پڑھ کر کیا کرنی ہے کیونکہ مجھے معلوم ہے اس میں کیا لکھا ہے دونوں ملزمان نے فرد جرم کی صحت سے انکار کردیا اس موقع پر ملزمان کے وکلا نے چالان کی نقول دوبارہ فراہم کرنے کی استدعا کرتے ہوئے عدالت سے مزید 7 دن کا وقت مانگا جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو پہلے ہی کافی وقت دے چکے ہیں مزید وقت نہیں دے سکتے جس پر ملزمان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ فرد جرم عائد کرنے سے سات دن قبل ریفرنس کی کاپیاں فراہم کرنا ہوتی ہیں 50 کے قریب دستاویزات ایسی ہیں جو پڑھے جانے کے قابل نہیں حالانکہ یہ دستاویزات اس ریفرنس کے حوالے سے اہمیت کی حامل ہیں وکلا کا موقف تھا کہ ہم فرد جرم عائد کرنے میں کوئی رکاوٹیں کھڑی کرنا نہیں چاہتے لہذا عدالتی وقت میں یہ دستاویزات فراہم کر دی جائیں ہم 7 دن بعد دوبارہ آجائیں گے کیونکہ سابق چیئرمین بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ تیزی سے کیس کو چلانا چاہتے ہیں اسی لئے ہم نے دستاویزات کی دوبارہ فراہمی کی درخواست بھی دی ہے وکلا نے کہا کہ عدالت اگر فرد جرم عائد کرنا چاہتی ہے تو اس چیز کو بھی ریکارڈ پر لایا جائے کہ 50 کے قریب دستاویزات پڑھے جانے کے قابل نہیں لیکن پھر بھی فرد جرم عائد کی جا رہی ہے جس پر نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کی استدعا کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ گواہوں کے بیانات ریکارڈ کراتے وقت تمام ریکارڈ ملزمان کے وکلا کو فراہم کر دیا جائے گا اس دوران سابق چیئرمین نے روسٹم پر آ کر موقف اختیار کیا کہ ہم اس کیس میں تاخیر نہیں چاہتے 8 فروری سے پہلے نیب کو جلدی تھی اب ہم چاہتے ہیں سزا جلدی ہو جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ خان صاحب آپ پہلے بتائیں آپ کے دانتوں کا چیک اپ ہوا کہ نہیں جس پر سابق چیئرمین نے جواب دیا کہ ابھی تک دانتوں کا چیک اپ نہیں ہوا جیل انتظامیہ نے کہا تھا اتوار کو ڈاکٹر آئے گا اب جیل انتظامیہ کہہ رہی ہے اگلے اتوار کو ڈاکٹر آئے گا اس موقع پر عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے اور دانتوں کے چیک اپ کیلئے جنرل فزیشن اور ڈینٹسٹ کی فراہمی کی درخواست منظور کرتے ہوئے ریفرنس کی سماعت 6 مارچ تک ملتوی کردی اس ریفرنس میں نیب کے 58 گواہان کی شہادتیں ریکارڈ کی جائینگی سماعت کے بعد سابق چیئرمین کے ترجمان بیرسٹر عمیر نیازی نے جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سابق چیئرمین کی کال پر تحریک انصاف الیکشن میں دھاندلی کے خلاف 2 مارچ ( بروز ہفتہ) پر امن احتجاج کرے گی احتجاج میں بتایا جائے گا کیسے فارم 45 سیفارم 47 تک کاسفر کیسے طے ہوا اس احتجاج میں تحریک انصاف کے ساتھ دوسری جماعتیں بھی شامل ہوں گی انہوں نے کہا کہ الیکشن میں دھاندلی کے بعد ہمارے جیتی ہوئی نشستیں بھی چھینی جارہی ہیں۔






