ان ایپس کا استعمال لوگ روزانہ کرتے ہیں، اسمارٹ فونز اب ہماری زندگی کے لیے اہم بن چکے ہیں اور ہر وقت ان کا استعمال کیا جاتا ہے۔
اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اگر اچانک اسمارٹ فون بیٹری دم توڑنے لگے تو لوگوں کے بھی ہوش اڑنے لگتے ہیں۔
مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ چند عام اور مقبول ایپس بھی بیٹری کی چارجنگ بہت تیزی سے کم کرنے کا باعث بنتی ہیں؟
مگر کچھ ایپس بیٹری کو زیادہ متاثر کیوں کرتی ہیں؟
ایسی متعدد وجوہات ہیں جن کے باعث کچھ ایپس بیٹری لائف کو زیادہ متاثر کرتی ہیں۔
روزانہ اسمارٹ فونز کا بہت زیادہ استعمال کرنے کا یہ نقصان جان لیں
جدید ٹیکنالوجی کے فاسٹ چارجر سے موجودہ اسمارٹ فونز کو 5 منٹ میں مکمل چارج کرنا ممکن نہیں
اسمارٹ فونز کی بیٹری لائف بڑھانے کا آسان ترین طریقہ
اسی طرح کچھ ایپس دن رات کام کرکے انفارمیشن اکٹھا کرتی ہیں، نوٹیفکیشنز فراہم کرنے کے ساتھ متعدد کام کرتی ہیں۔
ہر وقت بیک گراؤنڈ پر کام کرنے والی ایپس بیٹری لائف کو نمایاں حد تک متاثر کرتی ہیں۔
لوکیشن سروسز استعمال کرنے والی اور بہت زیادہ نوٹیفکیشنز بھیجنے والی ایپس بھی بیٹری لائف کو متاثر کرتی ہیں۔
تاہم کسی اسمارٹ فون بیٹری کے لیے جو 9 ایپس سب سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں وہ درج ذیل ہیں۔
فیس بک
فیس بک دنیا کا سب سے بڑا سوشل میڈیا نیٹ ورک ہے اور ہر طرح کی سروسز کی موجودگی کے باعث اربوں افراد اسے استعمال کرتے ہیں۔
یہ ایپ فون کے بیک گراؤنڈ پر بھی ہر وقت سرگرم رہتی ہے جبکہ اس کے فیچرز لوکیشن اور کیمرا ریسورسز بھی استعمال کرتے ہیں اور دونوں سے ہی بیٹری لائف بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
فیس بک میسنجر
ویسے تو ایسا مشکل لگتا ہے کہ ایک میسجنگ ایپ بیٹری کو بہت زیادہ چوس سکتی ہے مگر فیس بک میسنجر ایسا ہی کرتی ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ محض سادہ ٹیکسٹ کمیونیکیشن ایپ نہیں، اس میں وائس میسجز، ویڈیو کالنگ، آڈیو کالز، فائل شیئرنگ اور دیگر متعدد مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
کچھ فیچرز کے لیے لوکیشن سروسز کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور تمام تر فیچرز کے باعث بیٹری لائف متاثر ہوتی ہے۔
واٹس ایپ
جو وجوہات فیس بک میسنجر کو بیٹری کے لیے نقصان دہ بناتی ہیں، وہی واٹس ایپ کو بھی بیٹری لائف کے تباہ کن بناتی ہیں۔
انسٹاگرام
انسٹاگرام کو صارفین مسلسل کئی گھنٹے تک استعمال کرتے ہیں جبکہ اسکرولنگ کے دوران مواد لوڈ ہوتا رہتا ہے جس کے باعث یہ ایپ بہت تیزی سے بیٹری کو چوستی ہے۔
اسنیپ چیٹ
یہ سوشل میڈیا ایپ بھی بیٹری کو بہت تیزی سے چوس لیتی ہے۔
یوٹیوب
یوٹیوب بھی بیٹری کو تیزی سے ختم کرنے والی ایپ ہے اور اس کی وجہ بھی واضح ہے، یعنی بہت زیادہ وقت تک ویڈیوز دیکھنا، جس کے باعث اسکرین بہت زیادہ وقت تک روشن رہتی ہے، فون ڈسپلے بھی بہت زیادہ بیٹری پاور استعمال کرتا ہے۔
اسکائپ
اسکائپ بھی بیٹری لائف کو متاثر کرنے والی ایپ ہے کیونکہ اسے بھی بہت زیادہ ریسورسز کی ضرورت ہوتی ہے۔
ٹک ٹاک
ٹک ٹاک بھی بیٹری کو تیزی سے ختم کرنے والی ایپ پے کیونکہ اس میں اسکرولنگ کے دوران مسلسل ویڈیوز چلتی رہتی ہیں جبکہ لوکیشن سروسز بھی استعمال ہوتی ہیں۔
ان ایپس کو بیٹری چوسنے سے کیسے روکا جائے؟
ویسے ان ایپس کو ڈیلیٹ کرنا کوئی مثالی حل نہیں تو اس کا حل یہ ہے کہ سیٹنگز کے مینیو میں بیٹری میں جائیں اور بیٹری یوز ایج کا انتخاب کریں۔
وہاں یہ دکھایا جائے گا کہ فون میں انسٹال ایپس نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بیٹری کا کتنا حصہ استعمال کیا۔
اگر آپ کو لگے کہ کوئی ایپ بیٹری کو زیادہ چوس رہی ہے تو پھر اسے کلوز کرکے اپ ڈیٹ کو چیک کریں یا ڈیلیٹ کرنے پر غور کریں۔
ایک طریقہ فون کو ری اسٹارٹ کرنا بھی ہے، البتہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی وہ ایپ سب سے زیادہ بیٹری لائف کو چوس رہی ہو تو پھر ڈیلیٹ کرنا ہی بہترین آپشن ہوتا ہے۔
اظہر حسین طور ، ڈسٹرکٹ بیورو چیف ڈیلی آواز ٹائمز قصور






