کوئٹہ: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زردار ی نے کہا ہے کہ بلوچستان حکومت کے وسائل سے عوام کو ریلیف اولین ترجیح ہے ۔ صوبے کے مسائل کوئی ایک فرد یا جماعت نہیں بلکہ سب جماعتوں کی مفاہمت سے حل ہوں گے ۔ نو منتخب صوبائی وزیر اعلی کو سب سے پہلا دورہ گوادر کا کرنا چاہیے ۔ محمود خان اچکزئی پی ٹی آئی کے نمائندہ بن کر خود کو قوم پرست تو نہیں کہہ سکتے ۔ کو ئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوے بلاول نے کہا سب کے ساتھ مفاہمت کے تحت چلنا ہماری پالیسی ہے۔ میثاق جمہوریت اس وقت پورے ملک کی ضرورت ہے ۔ ۔ بلوچستان کے مسائل کا ایک سیاسی جماعت کے لئے مقا بلہ کرنا بہت مشکل ہے ۔ سب مل کر مثبت حکمت عملی سے ہی اس صوبے کے مسائل کو دور کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا پیپلز پارٹی نے دس نکاتی عوامی معاشی معائدہ پر الیکشن لڑا ۔ اور اب اپنے اس منشور کو عملی جامہپ پہنایا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی میر سرفراز بگٹی اپنا پہلا دورہ گوادر کا کریں ۔ بارشوں کے باعث گوادر میں بہت نقصان ہوا وزیر اعلی ریلیف کا انتظام کریں ۔ انہوں نے کہا ہم نے سوات م وزیرستان میں دہشتگردی کا مقا بلہ کیا ۔ نیشنل ایکشن پان کے مطابق بلوچستان میں دہشتگردی اور ا نتہا پسندی کا مقابلہ کریں گے ۔ بلوچ عوام نے بہت قربانیاں دیں کوشش ہو گی اب انھیں یہ قربانیں نہ دینی پڑیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم پارلیمان کے باہر بیٹھے سٹیک ہولڈر کو بھی انگیج کریں گے ۔ لاپتہ افراد کے مسئلے کا حل پارلیمانی کمیٹی بنا کر انھیں ڈھونڈیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری نے آغاز حقوق بلوچستان پروگرام کا آغاز کیا تھا اگر اس پر عملدرآمد جاری ر ہتا تو آج ہم ایک بالکل مختلف بلوچ صوبہ دیکھ رہے ہوتے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا بہت مضبوط وزیر اعلی بننے جا رہا ہے یہ دو ہزار آٹھ کے وزیر اعلی کے مقا بلے میں زیادہ مضبوط ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ملک کی فالٹ لائنز کو مفاہمت سے حل کریں تاکہ دشمن کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کا حق ہے کہ وہ کسی کو بھی وزیراعظم یا صدر منتخب کریں ۔ میں محمود اچکزئی کا بہت احترام کرتا ہوں تاہم یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اچکزئی پی ٹی آئی کا نمائندہ بن کر خود کو قوم پرست تو نہیں کہہ سکیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری صدر بنیں گے ہم کوئٹہ کی آواز اسلام آباد پہنچائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنا زیادہ وقت اسلام آباد کے بجائے کوئٹہ اور کراچی میں گزاروں گا ۔ اور سندھ اور بلوچستان کے مسائل وفاق میں اٹھاوں گا ۔






