ملکی مجموعی صورتحال میں مفاہمت لازمی طور پر ہونی چاہیے، وزیردفاع

اسلام آباد:وفاقی وزیر دفاع و ایوی ایشن خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ملکی مجموعی صورتحال میں مفاہمت لازمی طور پر ہونی چاہیے یہی اچھے پاکستانی کی نشانی ہے،افسوس عوام پر بجلی اور گیس کی قیمتوں میں 24 قسم کے ٹیکسوں کے تحت بوجھ ہے، اصولاً عوام پر کسی قسم کا بوجھ نہیں ہونا چاہئے، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ہم نے 24 قسم کے ٹیکس لگائے ہوئے ہیں جن کا بجلی یا گیس سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا،بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہزاروں ارب روپیہ کی ٹیکس چوری ہورہی ہے،عام غریب آدمی چوری نہیں کرتا، اپر مڈل کلاس یا اس سے اوپر چوری ہوتی ہے، 900 ارب روپے کی بجلی چوری ہورہی ہے، اسی طرح گیس چوری ہورہی ہے،کروڑوں لوگ اس وقت بھی بجلی، گیس اور ٹیکس چوری کرکے عام آدمی کا حق مار رہے ہیں،300 ارب روپے تو صرف سگریٹ ٹیکس چوری ہورہی ہے، 10 بلین ڈالرز کی چوری صرف سگریٹ سے ہوتی ہے،انہوں نے کہا کہ ہم 10 بلین ڈالرز کیلئے تو الٹے ہوکر آئی ایم ایف کی منتیں کررہے ہیں، نجکاری بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے، کیونکہ 800 ارب روپے پی آئی اے پر قرض چڑھ چکا ہے،وہ ایک شخص سابق دور میں بیان دے گیا کہ 180 پائلٹ جعلی لائسنس ہولڈرز ہیں، اس بیان کی وجہ سے آدھی دنیا میں ہماری فلائٹس بند ہوگئیں، ہم لگے ہوئے ہیں کہ پی آئی اے کی فلائٹس بحال کرالیں اس سے اچھی قیمت مل جائیگی، پی آئی اے کی نجکاری لازمی ہوچکی ہے، کیونکہ اب بہت سی چیزیں اب آگے چلی گئی ہیں،پیپلز پارٹی نے تو خود اچھی نجکاری کی ہوئی ہے،پیپلز پارٹی کو ہم پی آئی اے نجکاری پر قائل کرلیں گے، امید ہے وہ مان جائینگے،پیپلز پارٹی نے بے نظیر بھٹو شہید کے دور میں خود بہت اچھی نجکاری کی، پی ٹی آئی کیساتھ ایک ورکنگ ریلیشن شپ ڈیلویپ ہوسکتا ہے، وزیر اعلی کے پی علی امین گنڈا پور کو وزیراعظم شہباز شریف نے اچھے طریقے سے ویلکم کیا تھا ،مفاہمت قومی ایشوز پر ہونی چاہیے، مفاہمتی عمل آگے نہیں بڑھتا تو پھر ہم کوئی اچھے پاکستانی نہیں ہونگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں