لاہور : وزیرا عظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خراب کارکردگی اور کرپشن کرنے والوں کو عہدوں پر رہنے کاکوئی حق نہیں ،جزا اور سزا کے عمل سے ہی قومیں عظیم بنتی ہیں ،لاکھوں لوگوں نے پاکستان کے قیام کے لیے جانیں قربان کیں، فیصلہ کن گھڑی آچکی ، پوری قوم کو ایف بی آر کے قابل اور محنتی افسران پر فخر ہے ، پاکستان کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے ،قرضے لینے کیلئے آئی ایم ایف کے پاس جانے کیلئے مجبورہیں ، غلطی ہم سب سے ہو سکتی ہے ہم انسان ہیں فرشتے نہیں بس ہونا یہ چاہیے کہ غلطی کو تسلیم کر کے اسے درست کیا جائے،ہمیںمتحد ہوکر اپنے ملک کو دنیا میںکھویا ہوا مقام واپس دلانا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایف بی آر کے اعلی افسران کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوے کیا ۔ انہوں نے کہا پاکستان کی معیشت کو اس وقت مختلف چیلنجز کا سامنا ہے ۔ ریونیو کلیکشن ، ٹیکس چوری اور کرپشن بہت بڑا چیلنج ہے اس کی وجہ سے ہمسایہ ممالک ہم سے بہت آگے نکل گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا پوری قوم کو ایف بی آر کے قابل اور محنتی افسران پر فخر ہے ۔ اب محنتی اور کام کرنے والے عہدوں پر رئیں گے جب کہ خراب کارکردگی والوں کو اب گھر جانا پڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا کا فرق پاکستان کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے ۔ محصولات کا ہدف حاصل ہونے کے بجائے کرپشن ، فراڈ اور لالچ کی نظر ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں آئی ایم ایف سے قرض لینا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان کے ذمہ واجب الادا قرضوں کا حجم ہم سب کے سامنے ہے ۔ ہم قرضے لینے پر مجبور ہیں ٹیکس وصولی بھی بہت بڑا چیلنج ہے ۔ محصولات بڑھا کر ریونیو میں اضافہ کرنا ہو گا ۔ محصولات کا ہدف بھی کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا ایجنسیوں کی رپورٹ اور ادارے کے ان پٹ کی بنیاد پر کالے کو سفید کریں گے۔ ایسے افسران کو جگہ نہیں دیں گے جن کی ناک کے نیچے کرپشن ہو ر ہی ہے ۔ انہوں نے کہا ہمیں اپنے ریونیو کو بڑھانا ہو گا ستائیس سو ارب روپے کے ٹیکس کیس ٹرینونلز میں زیر التوا ہیں جو فوری حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ ٹریبونلز ممبر کام کریں گے تو ہم عزت دیں گے ورنہ گھر جائیں گے ۔ انہوںنے کہا سات سو پچاس ارب روپے کا سیلز ٹیکس جعلسازی سے ہڑپ کیا گیا ۔ انہوں نے کہ تمام تر چیلنجز کے باوجود پاکستان کو دنیا میں کھویا ہوا مقام واپس دلوائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ غلطی ہم سب سے ہو سکتی ہے ہم انسان ہیں فرشتے نہیں بس ہونا یہ چاہیے کہ غلطی کو تسلیم کر کے اسے درست کیا جائے ۔ انہوں نے کہا جزا اور سزا کا ایک عمل ہے جس سے قومیں بنتی ہیں اگر یہ عمل نہیں ہو گا تو جو اہل کام کر رہے ہیں انکی حوصلہ شکنی ہو گی اور جو نااہل ہوں گے انکی حوصلہ افزائی ہو گی ۔ انہوں نے کہا میرٹ کی بنیاد پر کام کرنے والوں کو شیلڈ دیں گے ۔ انہوں نے کہا چوبیس کھرب روپے کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں صرف نو ارب قومی خزانے کا حصہ بنتے ہیں ۔ فیصلہ کن گھڑی آچکی سب کو مل کر کام کرنا ہو گا ۔ انہوں نے کہا بہت بڑا خطا کار انسان ہوں اور اپنی خطاوں پر اللہ سے معافی مانگتا ہوں لیکن گورننس کا کاکام ہمیشہ پوری ایمانداری سے کیا ۔ دن رات محنت سے ہم نے اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر ایف بی آر کا نظام چلا تو ٹھیک ورنہ مجھے مجبور کیا جائیگا کہ میں ادارے کی آوٹ آف ریسورسنگ کروں ۔






