کوئٹہ (روزنامہ آواز ٹائمز) بلوچستان یونیورسٹی کے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے حوالے سے منعقدہ ٹیسٹ کے بارے میں دیا گیا ینگ اسکالرز کا بیان گمراہ کن ہے۔ ان خیالات کا اظہار ی بلوچستان ٹی وی کے ترجمان نے ایک بیان میں کیا انھوں نے مزید کہا کہ
بلوچستان ریسرچرز فورم کیجانب سے بلوچستان یونیورسٹی کے حالیہPh.D/ M.Phil کے منعقد کیے گیے ٹیسٹ کو ٹرانسپیرنٹ اور قوائد و ضوابط کے عین مطابق قرار دیا گیا ھے۔ اور وائس چانسلر ، رجسٹرار اور جی ایس او آفس کے تمام عملے کے اقدام کو قابل تحسین قرار دیا ہے۔ ایم فل پی ایچ ڈی کے ٹیسٹ کے حوالے سے ینگ سکالرز کا بیان گمراہ کن اور بلیک میلنگ ھے۔
ترجمان بلوچستان ٹی وی نے مزید کہا کہ بلوچستان یونیورسٹی قوائد و ضوابط کے مطابق ایم فل اور پی ایچ ڈی کے داخلوں کا اعلان جی ایس او کی طرف سے سلاٹس کے حساب کتاب کے بعد کیا جاتا ہے یعنی پی ایچ ڈی رکھنے والا ایک سپروائزر 7 ایم فل اور 5 پی ایچ ڈی اسکالرز کی نگرانی کرسکتا ہے۔ داخلہ فارم جی ایس او کو جمع کرائے جاتے ہیں، جانچ پڑتال کے بعد اعتراضات کی فہرست ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے بعد ڈیٹا ٹیسٹنگ سروس کو بھیجا جاتا ہے جو پہلے سے جمع کرائے گئے ڈیٹا سے ڈیپٹ ٹیچرز (سوالات کا تالاب) ٹیسٹ کرتی ہے، ٹیسٹنگ سروس کے ذریعے سلپس جاری کی جاتی ہیں، ڈے بوف ٹیسٹ پر جی ایس او ٹیم ٹیسٹنگ سروس کے ذریعے فراہم کردہ ٹیسٹ کا انعقاد کرتی ہے اور اس کے بعد اسے ٹیسٹنگ سروس کے حوالے کر دیتی ہے۔ ٹیسٹ مشین کے ذریعے چیک کیے جاتے ہیں، ٹیسٹوں کی جانچ پڑتال کے بعد کلید تیار کی جاتی ہے۔ حتمی نتیجہ ٹیسٹنگ سروس کے ذریعے gso کو بھیجا جاتا ہے جو ظاہر کی جاتی ہے اور میرٹ کی فہرستیں تیار کی جاتی ہیں اور انٹرویو کے لیے محکموں کو بھیجی جاتی ہیں، حتمی فیصلہ حتمی فیصلہ کے لیے AS&RB کے سامنے رکھا جاتا ہے،
زبردستی داخلہ لینے والے ینگ اسکالرز اتنے قابل ہیں تو این ٹی ایس پاس کرکے داخلہ لے سکتے ہیں، بلوچستان ریسرچرز فورم کے اسکالرز نے وائس چانسلر جامعہ بلوچستان ڈاکٹر ظہور بازئی سے میرٹ کو ترجیح دینے کی درخواست کرتے ھوے بلوچستان میں ریسرچ کلچر کو فروغ دینے میں اپنا تعاون اور ساتھ دینا کا یقین دلایا ھے۔






