کوئٹہ(آوازٹائمز)وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ڈاکٹر علامہ اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے جس آزاد ریاست کا خواب دیکھا تھا ہم آج اسی ملک میں سانس لے رہے ہیں اقبال نے ہمیں خودی، بیداری شعور اور استقلال کا پیغام دیا ان کی فکر آج بھی زندہ ہے اور نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے اقبال نے یہ سبق دیا کہ کوئی قوم تعلیم اور عمل کے بغیر ترقی نہیں کرسکتی اور اگر آج ہم ان کے فلسفے پر عمل کریں تو پاکستان کو ترقی و استحکام کی نئی بلندیوں تک پہنچا سکتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کوئٹہ میں یومِ اقبال کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب اور طالبات کے ساتھ انٹرایکشن سیشن کے دوران کیا وزیر اعلی نے کہا کہ یونیورسٹیوں کا دورہ میرے لیے باعثِ مسرت ہے کیونکہ جامعات قوم کی فکری تربیت اور ترقی کا محور ہیں میں بطور وزیر اعلی چاہتا ہوں کہ بلوچستان کی ہر بیٹی اعلی تعلیم حاصل کرے اور ملک و قوم کے لیے قابلِ فخر کردار ادا کرے انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال نے جس خواب کی تعبیر کے لیے قوم کو جگایا، 1947 سے لے کر آج تک اس خواب کو کمزور کرنے کے لیے مختلف سازشیں کی گئیں کبھی دہشت گردی کے ذریعے کبھی پروپیگنڈہ اور فتنہ انگیزی کے ذریعے کبھی مذہبی منافرت اور کبھی لسانی بنیادوں پر پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی مگر پاکستانی عوام نے ہمیشہ دشمن کے عزائم ناکام بنائے اور دہشت گردی کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا وزیر اعلی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں تعلیمی ترقی کے لئے عملی اقدامات کر رہے ہیں ہم نے حکومت سنبھالی تو تنخواہوں کے لئے اساتذہ سڑکوں پر احتجاج کررہے تھے ہم نے بلوچستان کے طالب علموں کے لیے دنیا کی دو سو جامعات کے دروزے کھولے، انہوں نے اعلان کیا کہ سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کی لائبریری میں کتابوں کی فراہمی کے لیے ایک کروڑ روپے دیے جائیں گے یونیورسٹی کو مکمل سولرائزیشن پر منتقل کیا جائے گا یونیورسٹی کے آڈیٹوریم کو ملک کا بہترین آڈیٹوریم بنایا جائے گا اور اسے جامعہ کی پہلی وائس چانسلر کے نام سے منسوب کیا جائے گا اس کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کو دس نئی بسیں فیکلٹی ممبران کے لیے 100 لیپ ٹاپ اور طالبات کے لیے 300 لیپ ٹاپ دئیے جائیں گے یونیورسٹی کے اندر نقل و حرکت کے لیے 10 الیکٹرک گاڑیاں بھی دی جائیں گی جو خواتین ہی چلائیں گی انہوں نے اعلان کیا کہ طالبات کے لیے پنک اسکوٹیز اسکیم کو وسعت دی جا رہی ہے اور بنک کے توسط سے ایک جامع اسکیم لائی جاررہی ہے پنجاب کے مقابلے میں بلوچستان کی طالبات کو یہ اسکوٹیز 40 فیصد کم قیمت پر فراہم کی جائیں گی طالبات خود اعتمادی سے آگے بڑھیں اسکوٹیز چلائیں اگر کوئی ہراساں کرتا ہے تو اس کے خلاف رپورٹ کریں حکومت ایسے افراد سے بہتر طور پر نمٹے گی اور انہیں سزا دی جائے گی وزیر اعلی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلوچستان سے زیادہ لاپتہ افراد کی تعداد خیبرپختونخوا اور بہت سے ممالک میں ہے مسنگ پرسنز کی کوئی جسٹی فکیشن نہیں تاہم کچھ عناصر صرف صوبے کو بدنام کرنے کے لیے مسنگ پرسنز کا پروپیگنڈہ کرتے ہیں






