کوئٹہ(آوازٹائمز)بلوچستان اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ موسمیاتی تبدیلی، ماحولیات، اور جنگلات و جنگلی حیات کا اجلاس پرنس احمد عمر احمدزئی کی زیر صدارت اسمبلی سیکرٹریٹ کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا، جس میں رکن صوبائی اسمبلی کلثوم نیاز بلوچ، وزیراعلی کے مشیر نسیم الرحمن ملاخیل، اور دیگر اعلی افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات نے کمیٹی کو اپنی کارکردگی اور درپیش مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلی کی پالیسی نافذ کر دی گئی ہے، اور فنڈ کے لیے ابتدائی رقم مختص کی گئی ہے۔ ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات میں اینٹوں کے بھٹوں کو جدید ٹیکنالوجی پر منتقل کرنا، کرومائیٹ ملز کی منتقلی، صنعتی اداروں میں فضائی اور آبی آلودگی پر قابو پانے کے اقدامات شامل ہیں۔ مزید 11000 سے 12000 کلوگرام غیر قانونی پلاسٹک بیگز ماہانہ ضبط کیے جا رہے ہیں اور اسپتالوں کا نقصان دہ فضلہ تلف کیا جا رہا ہے۔ ماحولیاتی عدالت میں 146 مقدمات زیر سماعت ہیں۔کمیٹی کے اراکین نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک سنگین چیلنج ہے، جس کے لیے مربوط حکمت عملی، مثر نگرانی اور عوامی آگاہی ضروری ہے۔اجلاس کے دوسرے مرحلے میں محکمہ جنگلات و جنگلی حیات نے اپنی کارکردگی اور مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ قانون کے تحت قواعد و ضوابط اور نئے محفوظ جنگلاتی و سمندری علاقے نوٹیفائی کیے گئے ہیں۔ صوبے بھر میں 53 جنگلاتی نرسریاں قائم کی گئی ہیں جن میں 3.8 ملین پودے تیار اور 1.8 ملین پودے عوام و اداروں کو تقسیم کیے گئے ہیں۔ مزید 41 ہزار ایکڑ زمین پر شجرکاری کے منصوبے مکمل کیے گئے، جبکہ Astola Island کے لیے انتظامی منصوبہ اور وائلڈ لائف فنڈ بھی قائم کیا گیا ہے۔محکمہ نے بجٹ کی محدودیت، عملے کی کمی اور جنگلات کی نامکمل قانونی منتقلی کو اپنی کارکردگی میں رکاوٹ قرار دیا، تاہم آئندہ سال کے لیے مزید جامع اقدامات کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔کمیٹی نے دونوں محکموں کی کارکردگی کو سراہا اور ہدایت کی کہ صوبے میں ماحول کے تحفظ، شجرکاری






