ہم بھی آپ جتنے عزتدار ہیں، وفاق اور سندھ میں قانون سازوں نے اعتراض نہیں کیا، سرفراز بگٹی

کوئٹہ(آوازٹائمز)بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکرکیپٹن(ر)عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت شروع ہواجس میں صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کم عمری کی شادیوں کے خلاف بل پیش کیا۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن اراکین نے سرکاری قراردادیں پیش نہ ہونے پر شور شرابہ کیا اور ہنگامہ برپا کر دیا، جس پر وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی اور دیگر وزرا نے اپوزیشن کو ڈیکورم برقرار رکھنے اور اختلاف کے باوجود اسمبلی کی عزت کا خیال رکھنے کی ہدایت دی۔وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے اپوزیشن کے شور پر کہا کہ “مولانا! ہم پر نہ چیخیں، ہم بھی اتنے ہی عزتدار ہیں جتنے آپ ہیں۔” انہوں نے واضح کیا کہ یہ بل وفاقی اور سندھ اسمبلی سمیت دیگر قومی اسمبلیوں میں پہلے ہی منظور ہو چکا ہے اور اس پر اعتراض کرنے کی کوئی قانونی گنجائش نہیں۔اپوزیشن کے کچھ اراکین نے بل کو قران و سنت کے خلاف قرار دیتے ہوئے مخالفت کی، جس پر وزیر اعلی نے کہا کہ بل اسلامی اصولوں اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کی سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی اس بل کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کے نفاذ کے لیے تعاون کریں۔وزیر اعلی نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے کم عمری کی شادیوں کو روکنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہ بل نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک میں بچوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے ایک تاریخی اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان قائداعظم نے بھی قبل از وقت شادی کے خلاف تحریری مزاحمت کی تھی اور اس بل کا مقصد بچوں کو تعلیم، صحت اور محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔بلوچستان اسمبلی میں یہ بل بچوں کے حقوق کے تحفظ اور کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کے لیے تاریخی اقدام قرار دیا جا رہا ہے، جس پر تمام سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی اور قانون ساز ادارے آگے بڑھ کر تعاون کریں گے۔اسپیکر کیپٹن عبدالخالق اچکزئی نے مولانا ہدایت الرحمان کے غیر پارلیمانی الفاظ کو ریکارڈ سے حذف کر دیا۔ اسپیکر نے کہا کہ ایوان کی عزت اور ڈیکورم کو برقرار رکھنا تمام اراکین کی ذمہ داری ہے اور اس طرح کے رویے قابل قبول نہیں۔یہ اقدام اجلاس کے دوران ہونے والے شور شرابے اور ہنگامہ خیزی کے پیش نظر اٹھایا گیا، جس میں اپوزیشن کے کچھ اراکین نے بل کو قران و سنت کے خلاف قرار دیتے ہوئے غیر پارلیمانی زبان استعمال کی تھی۔ اسپیکر نے واضح کیا کہ ایوان میں ہر رکن کو اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے، لیکن الفاظ اور رویے کا معیار بھی لازمی ہے تاکہ اسمبلی کی وقار اور قانونی کارروائی متاثر نہ ہو۔ اجلاس میں اس بل پر تفصیلی بحث و مشاورت جاری رہی اور بل کو قانونی شکل دینے کے لیے آئندہ اجلاس میں حتمی منظوری متوقع ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں