قلعہ عبداللہ میں پولیس چوکی انچارج کے قتل کے بعد کشیدگی، مقامی قبائل نے بین الاقوامی شاہراہ بند کردی

کوئٹہ(آوازٹائمز)قلعہ عبداللہ کے علاقے چمن ژڑہ بند میں مقامی پولیس چوکی کے انچارج کے قتل کے بعد صورتِ حال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ آج صبح مسلح افراد کے حملے میں چوکی انچارج شہید ہوگئے جس کے بعد مقامی قبائل نے بین الاقوامی شاہراہ کو مکمل طور پر بند کردیا، جس سے ٹریفک کی آمد و رفت شدید متاثر ہے۔واقعے کے بعد مشتعل افراد نے پولیس اہلکار پر فائرنگ کرنے والے مبینہ ملزم فقیر محمد کی گاڑی اور گھر کو آگ لگا دی۔ فورسز کی جانب سے احتجاج ختم کرانے کے لیے مذاکرات کی پہلی کوشش ناکام ہوگئی، جس کے باعث حالات مزید بگڑ گئے۔ڈی پی او قلعہ عبداللہ کے مطابق جرائم پیشہ عناصر کی قریبی پہاڑی پناہ گاہ کا محاصرہ کرلیا گیا ہے اور سرغنہ فقیر محمد کی زندہ یا مردہ گرفتاری کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن جاری ہے۔ ڈی پی او نے بتایا کہ فقیر محمد 15 مختلف قتل و جرائم کے مقدمات میں پولیس اور لیویز کو مطلوب ہے، اور اس کی گرفتاری کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔علاقائی انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز نے صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات تیز کردیے ہیں جبکہ شاہراہ جلد از جلد کھولنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ بین الاقوامی ٹریفک اور مقامی آمد و رفت بحال ہوسکے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں