تربت (آوازٹائمز)بلوچستان کے صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کی خصوصی ہدایت پر صوبائی اسپیشل سیکریٹری صحت بلوچستان شیہک شہداد بلوچ نے ڈپٹی کمشنر کیچ بشیر احمد بڑیچ اور ڈی ایچ او کیچ ڈاکٹر عبدالروف بلوچ کے ہمراہ ٹیچنگ اسپتال تربت کا تفصیلی دورہ کیا۔ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر وحید بلیدی اور دیگر ڈاکٹرز نے انکا استقبال کیا۔ دورے کے دوران اسپیشل سیکریٹری صحت نے اسپتال کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا۔ آئی سی یو اور ایمرجنسی وارڈ میں مینٹیننس پر توجہ نہ دینے پر برہمی کا اظہار کیا اور ہدایت کی کہ ایمرجنسی وارڈ میں صفائی ستھرائی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے ٹیچنگ اسپتال کے نئے آئی سی یو کا بھی جائزہ لیا۔ آئی سی یو پروٹوکولز پر عمل نہ ہونے پر متعلقہ عملے کو سختی سے پابندی کی تاکید کی۔ بعدازاں شعبہ امراضِ نسواں کے آپریشن تھیٹر کا دورہ کیا۔ جہاں ایم ایس نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اسپتال میں روزانہ تقریبا 80 نارمل ڈلیوریز اور 14 کے قریب سیزیرین آپریشن ہوتے ہیں۔ سٹی اسکین شعبہ میں سینئر ریڈیالوجسٹ ڈاکٹر عطا اللہ دشتی نے انہیں بریفنگ دی۔ اسپیشل سیکریٹری صحت نے کہا کہ اسپتال میں بہترین سہولیات موجود ہیں مگر عوام میں ان کے بارے میں مناسب آگاہی نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دل کے امراض اور بلڈ پریشر کے مریض اکثر لاعلمی کے باعث بروقت ٹیسٹ نہ کروانے سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں جبکہ وہی ٹیسٹ جو کراچی میں 60 سے 80 ہزار روپے میں ہوتے ہیں تربت میں صرف مناسب فیس میں دستیاب ہیں۔ شعبہ ایمرجنسی کے معائنے کے دوران صفائی کی ناقص صورتحال پر انہوں نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ایم ایس اور متعلقہ انچارج کو فوری بہتری اور شعبہ ایمرجنسی کے پروٹوکول کا خیال رکھنے کی ہدایت کی۔ شیہک شہداد بلوچ نے کہا کہ ٹیچنگ اسپتال تربت، کوئٹہ کے بعد بلوچستان کا دوسرا بڑا اسپتال ہے۔ میری پوری کوشش ہے کہ بلوچستان کے اسپتالوں کی حالت بہتر ہو اور خصوصا اپنے ہوم سٹی تربت کے اسپتال کو بہتر بنایا جائے تاکہ یہاں کے غریب عوام علاج کے لیے کراچی کے چکر نہ لگاتے رہیں اور بھاری اخراجات سے بچ سکیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسپتال کے چند شعبوں میں ایچ ار و دیگر اسٹاف کی کمی ہے، جسے جلد کیا جائے گا۔ ہم 87 ٹیکنیکل اسٹاف بھرتی کر رہے ہیں جو سو فیصد میرٹ پر ہوگا تاکہ اسپتال کے تکنیکی شعبے مضبوط ہوں اور خدمات متاثر نہ ہوں






