اسلام آباد(آوازٹائمز)قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی و اپوزیشن ارکان میں سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، محمود خان اچکزئی کے بیان پر مذمتی قرارداد پیش کردی گئی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں شروع ہوا تو ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی جانب سے سخت مؤقف سامنے آئے۔ اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ اپوزیشن کے ایک رکن نے عوام کو استعمال کرتے ہوئے پارلیمنٹ نہ چلنے دینے کی دھمکی دی، ہم اتنے کمزور نہیں کہ پارلیمان کا دفاع نہ کر سکیں، 2014 میں بھی پارلیمان کا دفاع کیا تھا اور آج بھی کریں گے۔پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید نوید قمر نے کہا کہ عوامی طاقت کے نام پر پارلیمان کو نہ چلنے دینے کی دھمکی جمہوریت اور آئین پر حملہ ہے۔ حکومتی رکن شمائلہ رانا نے ایوان میں مذمتی قرارداد پیش کی۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ کسی لیڈر کو خوش کرنے کے لیے پارلیمان پر حملے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ قرارداد پیش کر لیں مگر اس پر ووٹنگ نہ کی جائے۔قرارداد میں کہا گیا کہ ایوان محمود خان اچکزئی کی جانب سے پارلیمان پر حملے کی دھمکی کی شدید مذمت کرتا ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ متعلقہ رکن کی رکنیت معطل کی جائے، تنخواہ اور مراعات بند کی جائیں۔ اسپیکر نے واضح کیا کہ قرارداد پر ووٹنگ نہیں ہوگی، صرف پیش کیا جائے گا۔اجلاس میں برطانیہ کی ایک یونیورسٹی میں پاکستانی طلبا کی جانب سے بھارت کو بحث میں بھاگنے پر مجبور کرنے پر بھی ایوان نے احمد ہراج سمیت تمام طلبا کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ محمود خان اچکزئی اپوزیشن لیڈر ہیں، جبکہ اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ ان کی نظر میں اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر کی حیثیت ثابت نہیں۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جب آپ اسپیکر تھے تو اسی ایوان سے دس ارکان کو اٹھایا گیا، محمود اچکزئی ہمارے ساتھ ڈیڑھ سال سے ہیں، آپ کے ساتھ تو 30 سال سے تھے۔انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ اپوزیشن لیڈر کے لیے درکار تعداد تحریری طور پر دی جا چکی ہے، اس کے باوجود محمود خان اچکزئی کا نوٹیفکیشن کیوں جاری نہیں ہو رہا؟ اسپیکر ایاز صادق نے کہا کہ میرے سے پیار سے سب کچھ منوایا جا سکتا ہے، جبر اور دھمکی سے کوئی بات نہیں مانوں گا






