کوئٹہ + کچلاک (ڈیلی آواز ٹائمز/عبداللہ جمال خلجی)شدید گرمی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی بھرپور مذمت؛ ایم پی اے ملک نعیم بازئی کچلاک کے عوام کے لیے ناکامی کی علامت بن چکے ہیں.
جمعیت علماء اسلام کے ضلعی رہنما حافظ محمد رفیق نے اپنے ایک جاری کردہ بیان میں کوئٹہ شہر اور بالخصوص تحصیل کچلاک میں گرمی کی شدت بڑھتے ہی کیسکو (QESCO) کی جانب سے جاری شدید اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر شدید تشویش اور برہمی کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ:
”کوئٹہ شہر اور مضافات میں جہاں پہلے ہی 8 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا شیڈول تھا، وہاں اب 12 سے 14 گھنٹے بجلی غائب رکھی جا رہی ہے۔ کچلاک اور گردونواح کے عوام اس شدید گرمی میں پینے کے پانی اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں، جبکہ کاروباری طبقہ بھی سخت پریشانی کا شکار ہے۔”
ایم پی اے ملک نعیم بازئی پر شدید تنقید:
حافظ محمد رفیق نے مقامی منتخب نمائندے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ:
”ایم پی اے ملک نعیم بازئی کچلاک کے عوام کے مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں اور وہ اس وقت کچلاک کے عوام کے لیے ایک بڑا ناسور اور بوجھ بن چکے ہیں۔ الیکشن کے وقت بڑی بڑی باتیں کرنے والے نمائندے آج عوام کو اس سخت گرمی اور عذاب میں تنہا چھوڑ کر غائب ہیں۔ کچلاک کی عوام کو بجلی، پانی اور بنیادی سہولیات سے محروم رکھنا ان کی نااہلی کا واضھ ثبوت ہے۔”
حکومت اور کیسکو انتظامیہ کو انتباہ:
جمعیت علماء اسلام کے رہنما نے کیسکو (QESCO) اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ:
کوئٹہ اور کچلاک میں فوری طور پر غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بند کیا جائے۔
مقررہ شیڈول کے مطابق بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو اس شدید گرمی میں کچھ راحت مل سکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کچلاک اور کوئٹہ کے عوام کو بجلی کی بلاعطل فراہمی کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے اور عوامی مسائل پر توجہ نہ دی گئی، تو جمعیت علماء اسلام عوام کے ساتھ مل کر شدید احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہوگی، جس کی تمام تر ذمہ داری کیسکو انتظامیہ اور مقامی ایم پی اے پر عائد ہوگی۔






