کوئٹہ، گوردوارہ سری گرو سنگھ سبھا کی مسماری کے خلاف آئینی درخواست سماعت کے لیے منظور

کوئٹہ (ڈیلی آوازٹائمز)بلوچستان ہائی کورٹ نے کوئٹہ کے تاریخی گوردوارہ سری گرو سنگھ سبھا (آرچر روڈ)کی اراضی، اس کی مبینہ فروخت اور تاریخی عمارت کی مسماری کے خلاف دائر آئینی درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے آئندہ سماعت 11 اگست 2026 مقرر کر دی ہے۔ اس مقدمے کو نہ صرف ایک تاریخی مذہبی مقام کے تحفظ بلکہ پاکستان میں اقلیتوں کے آئینی حقوق، مذہبی آزادی اور مشترکہ ثقافتی ورثے کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے عدالت عالیہ میں یہ درخواست آئینی درخواست نمبر 1060/2026 کے تحت Adnan Arif Jahangir Vs. Religious Affairs and Interfaith Harmony Department, Government of Balochistan کے عنوان سے دائر کی گئی ہے، جس میں مقف اختیار کیا گیا ہے کہ تاریخی گوردوارہ کی زمین اور عمارت سے متعلق ہونے والے اقدامات نہ صرف قانونی تقاضوں کے منافی ہیں بلکہ اقلیتی برادری کے مذہبی اور ثقافتی حقوق پر بھی اثر انداز ہوئے ہیں درخواست گزاروں میں سردار اویناش سنگھ (سماجی رہنما، سکھ برادری)، سنیل بجاج (صدر ہندو پنچایت)، سنجیت کمار (نمائندہ ہندو برادری)، راج کمار (نمائندہ بالمیکی برادری) اور معروف انسانی حقوق کے کارکن عدنان عارف جہانگیر شامل ہیں، جنہوں نے مشترکہ طور پر عدالت سے رجوع کرتے ہوئے تاریخی مقام کے تحفظ کے لیے قانونی چارہ جوئی کی ہے درخواست میں بتایا گیا ہے کہ آرچر روڈ، کوئٹہ پر واقع گوردوارہ سری گرو سنگھ سبھا تقسیم برصغیر سے قبل سکھ برادری کی ایک اہم عبادت گاہ تھی، جہاں مذہبی رسومات اور عبادات باقاعدگی سے ادا کی جاتی تھیں۔ تقسیمِ پاک و ہند کے بعد یہ جائیداد ایویکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ (ETPB) کے انتظام میں چلی گئی، جبکہ بعد ازاں اسی مقام پر سینٹ گیبریل اسکول قائم کیا گیا درخواست گزاروں کے مطابق حالیہ عرصے میں مذکورہ جائیداد کو فروخت کر دیا گیا اور 2 اور 3 جولائی 2026 کی درمیانی شب تاریخی گوردوارہ کی عمارت کو مسمار کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک اہم مذہبی، تاریخی اور ثقافتی ورثہ ختم ہو گیا۔ درخواست میں مقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف سکھ برادری کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے بلکہ پاکستان کی تاریخی اور ثقافتی شناخت کو بھی نقصان پہنچا آئینی درخواست میں بلوچستان ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ گوردوارہ کی اراضی پر ہر قسم کی مزید تعمیرات اور دیگر کارروائی کو قانون کے مطابق فوری طور پر روکا جائے تاکہ مقدمے کے فیصلے تک موجودہ صورتحال برقرار رہے۔ مزید یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ جائیداد کی فروخت، ملکیت کی منتقلی اور تاریخی عمارت کی مسماری کے تمام مراحل کی آزاد اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور اگر کسی بھی مرحلے پر قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے درخواست گزاروں نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی ہے کہ تاریخی گوردوارہ کی اراضی دوبارہ سکھ برادری کے حوالے کی جائے تاکہ اس مقام کی مذہبی، تاریخی اور ثقافتی حیثیت بحال کی جا سکے، عبادت گاہ کی شناخت محفوظ رہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں