کوئٹہ (ڈیلی آواز ٹائمز/نیوز ڈیسک)کوئٹہ کے علاقے ہنہ اوڑک میں پی ایم ڈی سی دفتر کے قریب واقع کوئلے کی کان میں میتھین گیس بھر جانے کے باعث شدید دھماکہ ہوا۔
دھماکے کے نتیجے میں متعدد کانکن کان کے اندر محصور ہو گئے۔ حادثے کا شکار ہونے والے مزدوروں کا تعلق زیادہ تر سوات اور شانگلہ، خیبر پختونخوا سے ہے۔
افسوسناک اپڈیٹ:
ذرائع کے مطابق ریسکیو ٹیموں نے اب تک 2 کانکنوں کی لاشیں نکال لی ہیں۔ باقی پھنسے ہوئے کانکنوں کو نکالنے کے لیے آپریشن جاری ہے۔
حادثے کے بعد علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ متاثرہ مزدوروں کے اہل خانہ کان کے باہر اپنے پیاروں کی سلامتی کے لیے دعا گو ہیں۔
ریسکیو آپریشن:
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پی ڈی ایم اے کے ریلیف کمشنر و ڈی جی جہانزیب خان غوری زئی کی ہدایت پر ریسکیو فورس کو 4 ایمبولینسز اور ضروری سامان کے ساتھ فوری روانہ کر دیا گیا۔
ڈائریکٹر ریسکیو نوید احمد شیخ خود آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔
محکمہ معدنیات و کانکنی کی ریسپانس ٹیم بھی پہلے سے موقع پر موجود ہے۔
مشکلات:
ریسکیو حکام کے مطابق کان کے اندر زہریلی میتھین گیس اور مزید دھماکوں کے خدشے کی وجہ سے ریسکیو ٹیموں کے لیے اندر جانا دشوار ہے۔
فی الحال پہلے گیس کے اخراج اور ماحول کو محفوظ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ امدادی اہلکار بحفاظت اندر داخل ہو سکیں۔
کوئلہ کانوں میں حفاظتی اقدامات کی کمی بلوچستان کا سنگین مسئلہ ہے۔ ہم حکومت اور لیز مالکان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کانوں میں جدید وینٹیلیشن، گیس ڈیٹیکٹر اور باقاعدہ معائنہ لازمی قرار دیا جائے تاکہ مزدوروں کی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
اللہ پاک شہداء کی مغفرت فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحت عطا کرے۔ آمین۔
#Quetta #HannaUrak #CoalMine #PDMA #Balochistan #PrayForMiners See less






