حب، ڈی آئی جی عبدالقیوم کا بہترین کردار، وکلاء اور پولیس کے درمیان جاری تنازعہ حل، وکلاء نے احتجاج ختم کردیا

حب(ڈیلی آواز ٹائمز/ نیاز اللہ سمالانی) حب میں گزشتہ روز ایس ایچ او حب سٹی اور ایس ایس پی حب کی جانب سے بار ایسوسی ایشن حب کے ساتھ مبینہ طور پر نازیبا الفاظ کے استعمال اور وکلاء سے بدسلوکی کے واقعے کے خلاف وکلاء برادری نے احتجاجاً عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے عدالتی کارروائی بند کر دی تھی۔واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی لسبیلہ ڈویژن عبدالقیوم حب عدالت پہنچے، جہاں انہوں نے بار ایسوسی ایشن حب کے عہدیداران اور وکلاء سے ملاقات کی اور ان کے تحفظات سنے۔ مذاکرات کے دوران وکلاء نے ایس ایس پی حب اور ایس ایچ او حب سٹی نعیم خلجی کے خلاف کارروائی اور انہیں دیگر اضلاع میں تعینات کرنے کا مطالبہ کیا۔ڈی آئی جی لسبیلہ عبدالقیوم نے وکلاء کو یقین دہانی کرائی کہ معاملے پر کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور وکلاء کے ساتھ عزت و احترام کا رویہ برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء معاشرے میں انصاف کے حصول اور عوام کے حقوق کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔بعد ازاں ایس پی حب مرزا بلال حسن نے حب عدالت اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ایس پی حب نے کہا کہ اگر ہماری جانب سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو ہم وکلاء برادری سے معذرت خواہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء کے لیے ان کے دفتر کے دروازے کھلے ہیں اور ایس ایچ او کا دفتر بھی وکلاء کے لیے کھلا رہے گا۔بار ایسوسی ایشن حب کے صدر ایڈووکیٹ حمل خان مری نے ایس پی حب مرزا بلال حسن کا شکریہ ادا کیا، جس کے بعد فریقین کے درمیان معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہوگیا۔مذاکرات کے موقع پر ڈپٹی کمشنر حب جمعہ خان مندوخیل، عدالت کے جج، ڈی ایس پی حب امام یعقوب بلوچ، ڈی ایس پی ٹریفک پولیس گل حسن پندرانی، بار ایسوسی ایشن حب کے صدر و جنرل سیکرٹری سمیت دیگر عہدیداران اور وکلاء موجود تھے۔مذاکرات کے اختتام پر بار ایسوسی ایشن حب کی جانب سے ڈی آئی جی لسبیلہ عبدالقیوم، ڈپٹی کمشنر حب جمعہ خان مندوخیل، عدالت کے جج، ڈی ایس پی حب امام یعقوب بلوچ، ڈی ایس پی ٹریفک پولیس گل حسن پندرانی، بار ایسوسی ایشن حب کے صدر اور جنرل سیکرٹری کو روایتی اجرکیں پہنائی گئیں۔بار ایسوسی ایشن حب نے ڈی آئی جی لسبیلہ عبدالقیوم اور ڈپٹی کمشنر حب جمعہ خان مندوخیل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے لسبیلہ سے حب پہنچ کر وکلاء کا مؤقف سنا اور معاملے کو افہام و تفہیم سے حل کرنے میں کردار ادا کیا۔معاملہ حل ہونے کے بعد حب کی عدالتوں میں عدالتی کارروائی دوبارہ شروع کر دی گئی اور وکلاء نے بائیکاٹ ختم کر دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں