سول ہسپتال ٹنڈو محمد خان DHQH میں نئی بھرتیوں کا انکشاف

ٹنڈو محمد خان (ڈیلی آواز ٹائمز/ظہیر خان جنجوعہ)بھرتیاں من پسند یا سیاسی نوازشات؟ ڈی ایچ کیو ہسپتال ٹنڈو محمد خان میں کووڈ ویکسینیٹرز کا احتجاج، سنگین الزامات

تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال (HDHQ) ٹنڈو محمد خان کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (MS) کی جانب سے جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کے آفس آرڈر (نمبر MS/DHQH/TMK/179/85) نے ایک نیا ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے۔

سیکریٹری ہیلتھ اور محکمہ فنانس، حکومت سندھ کی منظوری سے 89 دنوں کے لیے ڈیلی ویجز کی بنیاد پر 14 ملازمین کی خدمات حاصل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، جس پر کووڈ-19 کے دور سے فرنٹ لائن پر کام کرنے والے تجربہ کار ویکسینیٹرز نے شدید احتجاج کیا ہے۔

ہسپتال کے دیرینہ کوالیفائیڈ عملے کے نمائندوں آفتاب لغاری، عرفان مگسی، ظہیر خان اور دیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں اس نوٹیفکیشن کو میرٹ کا قتل اور سیاسی بندر بانٹ قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم نے عالمی وبائی مرض کووڈ-19 کے انتہائی خطرناک دور سے لے کر تاحال اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر بطور ویکسینیٹر اور ہیلتھ ورکرز دن رات ہسپتال میں خدمات سرانجام دیں۔

جب مشکل وقت تھا تو حکومت اور انتظامیہ نے ہم سے کام لیا، لیکن اب جب مستقل یا باقاعدہ بنیادوں پر ایڈجسٹ کرنے کا وقت آیا تو 2018 سے کام کرنے والے کوالیفائیڈ اور تجربہ کار لوگوں کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔”

انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ موجودہ لسٹ میں شامل بیشتر افراد مبینہ طور پر سیاسی دباؤ کے تحت لائے گئے ہیں اور یہ بھرتیاں سراسر جعلی اور من پسند ہیں، جن کا ہسپتال کے کام یا تجربے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، ان 89 دنوں کے لیے درج ذیل عہدوں پر بھرتیاں کی گئی ہیں۔

* ٹیکنیکل سٹاف (الٹراساؤنڈ، بلڈ بینک، ایکس رے، لیب، اور او ٹی): ایمان، زنیرہ نور، مہدی رضا، عمران علی، اور دعا (تمام مارننگ شفٹ)
* ڈرائیور (ایمبولینس ڈیوٹی): عقیل احمد (مارننگ شفٹ)
* آیا/دائی (لیبر روم): روہا رانی (مارننگ شفٹ)
* سیکیورٹی گارڈز (مین گیٹ): عبدالرحمان (مارننگ) اور علی حیدر شاہ (نائٹ شفٹ)
* سینیٹری ورکرز و دیگر: پوجا، سمیرا امجد، وکرم، اور محمد صدیق۔

آفتاب لغاری، عرفان مگسی اور ظہیر خان نے اعلیٰ حکام، وزیر اعلیٰ سندھ اور نیب سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مبینہ جعلی لسٹ کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور کووڈ کے دور سے فرنٹ لائن پر لڑنے والے ویکسینیٹرز کو ان کا جائز حق دیا جائے۔

انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر یہ ناانصافی ختم نہ کی گئی تو وہ اس سیاسی فیصلے کے خلاف شدید احتجاجی تحریک شروع کریں گے اور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔

دوسری جانب، ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ آرڈرز مجاز اتھارٹی اور طے شدہ طریقہ کار کے تحت ہی جاری کیے گئے ہیں، تاہم ویکسینیٹرز کی جانب سے لگائے گئے سیاسی دباؤ اور جعلی بھرتیوں کے الزامات پر تاحال کوئی باضابطہ تردید یا وضاحت سامنے نہیں آئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں