اسلام آباد (روزنامہ آواز ٹائمز)وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ سینیٹر شیری رحمن نے کہا ہے کہ سمندری طوفان بپر جوائے کی شدت کم ہوئی ہے،خطرات بدستور برقرار ہیں، ہمیں کسی بھی قسم کی افراتفری سے اجتناب برتتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی، صورتحال کے پیش نظر محتاط اور چوکنا رہنے اور لوگوں کو اس بارے مسلسل آگاہی دینے کی ضرورت ہے، خطرے سے دوچار علاقوں سے لوگوں کے انخلا اور ان کی محفوظ مقامات پر منتقلی کیلئے ریلیف کیمپس کے قیام سمیت ضروری اقدامات شروع کر دیئے ہیں، اس وقت سندھ کے تمام ادارے الرٹ ہیں،ریسکیو اداروں کے اہلکاروں کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی ہیں،تمام سکول بند کر دئیے گئے ہیں ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔وہ منگل کو چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سمندری طوفان بپر جوائے کی شدت کم ہوئی ہے تاہم اس سے منسلک خطرات بدستور برقرار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طوفان غیر متوقع طور پر رفتار اور سمت تبدیل کر سکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ بھارت کے ساحل کے ساتھ ساتھ اس کا رخ پاکستان کے ساحلی علاقوں کی طرف بھی ہے، ہمیں افراتفری سے اجتناب برتتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ بپر جوائے انتہائی شدید طوفان میں تبدیل ہوا ہے جس کی سطح پر ہواؤں کی رفتار 140 سے 150 کلومیٹر ہے جبکہ اس کے مرکز میں 170 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ طوفان کراچی سے 440 کلومیٹر جنوب، ٹھٹھہ سے 430 کلومیٹر دور اور اورماڑہ سے 555 کلومیٹر جنوب مشرق میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمندری طوفان کے جون 14 کی صبح تک شمال کی سمت جبکہ بعد ازاں مشرق کی جانب رخ بدلنے کا امکان ہے۔انہوں نے کہاکہ 15 جون کی سہ پہر یہ انتہائی شدید طوفان کی صورت میں سندھ کے جنوب مشرقی ساحلی علاقہ کیٹی بندر اور بھارتی گجرات کے ساحل کے درمیانی علاقہ میں ٹکرا سکتا ہے، سمندری طوفان کی وجہ سے ٹھٹھہ، بدین، سجاول، تھرپارکر، کراچی، میرپور خاص، عمرکوٹ، حیدرآباد، اورماڑہ، ٹنڈو الہ یار خان اور ٹنڈو محمد خان کے علاقے متاثر ہوں گے جہاں تیز اور تند ہواؤں کے ساتھ شدید بارش کا امکان ہے۔






