کوئٹہ(آوازٹائمز/انعام اللہ اچکزئی)وفاقی حکومت نے رواں سال گندم خریداری کا منصوبہ تیار کرلیا ہے اور عبوری گندم پالیسی کے ڈرافٹ کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ ذرائع وزارت فوڈ سیکیورٹی کے مطابق گندم خریداری کی یہ عبوری پالیسی آئندہ ہفتوں میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق وفاقی و صوبائی حکومتیں اس بار براہِ راست کاشتکاروں سے گندم خریداری نہیں کریں گی بلکہ نجی شعبے کے ذریعے خریداری کا عمل مکمل کیا جائے گا۔رواں سال مجموعی طور پر 6.25 ملین میٹرک ٹن گندم خریدی جائے گی، جس میں وفاق 1.5 ملین ٹن، پنجاب 2.5 ملین ٹن، سندھ ایک ملین ٹن، خیبرپختونخوا 7.5 لاکھ ٹن اور بلوچستان 5 لاکھ ٹن گندم خریدے گا۔حکومت نے گندم کی انڈیکیٹو قیمت خرید 3500 روپے فی من مقرر کی ہے، جب کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت میں اضافے کی صورت میں ملک میں بھی قیمت بڑھا دی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گندم کی امدادی قیمت آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت مقرر نہیں کی گئی، اور صوبوں کے درمیان گندم کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوگی۔






